خطبات وقف جدید — Page 333
333 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرمائے گئے اس لحاظ سے وقف جدید کی تحریک کو آپ بالکل معمولی اور عام تحریک نہ سمجھیں اس کا ہندوستان کے روحانی مستقبل کے ساتھ ایک گہر اواسطہ ہے اور ساری دنیا کی جماعتوں کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔اب تک جو صورت حال سامنے آئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک وعدوں کا تعلق ہے سال 1986ء میں بیرونی جماعتوں نے جتنے وعدے پیش کئے 1987ء میں اس سے تقریباً نصف وعدے پیش کئے یعنی آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ عمومی طور پر تو ہو نہیں سکتا اسلئے ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔جہاں تک وصولی کا تعلق ہے وہ کم و بیش اتنی ہے۔اسلئے یا تو غلط فہمی ہوئی ہے یا مرکزی نظام کی طرف سے پوری توجہ نہیں دلائی جاسکی، کچھ ہوا ضرور ہے یا اعداد و شمار بگڑے ہیں کیونکہ اگر وعدوں میں اتنی کمی تھی تو وصولی میں اسی نسبت سے اتنی کمی ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آئی۔جب میں نے تفصیلی جائزہ لیا تو جو بڑے بڑے ممالک ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے قدم پیچھے نہیں گیا۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کوئی حسابی غلطی ہوئی ہے یا لوگوں نے سمجھا کہ وعدے لکھوانے کی ضرورت ہی کوئی نہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا برطانیہ کا گزشتہ سال 3600 پونڈز کا وعدہ تھا اس دفعہ خدا کے فضل سے 11419 کا ہے۔بیرونی دنیا کی جماعتوں میں برطانیہ کا چندہ ایک بڑا نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے اسلئے جہاں تقریباً چار گنا اضافہ ہورہا ہو وہاں پیچھے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔دوسری امریکہ کی جماعت ہے۔امریکہ کی جماعت اگر چہ برطانیہ سے بہت پیچھے رہ گئی ہے لیکن اس کے باوجود پچھلے سال وصولی صرف 893 پونڈ تھی (یعنی اگر ڈالر کو پونڈ میں تبدیل کیا جائے )۔اس سال 4,473 ہے یعنی پانچ گنا زیادہ۔پھر سوئٹزر لینڈ ہے، وہاں بھی ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا ہے۔پھر جرمنی ہے، وہاں بھی ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا ہے۔پھر کینیڈا ہے، وہاں بھی 1075 اضافہ ہوا ہے۔تو جو بڑے بڑے ممالک ہیں جو چندے کی Backbone بناتے ہیں باہر کی دنیا میں یعنی اس چندے کو جس کو ہم دوسرے ملکوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔افریقہ میں نے اس لئے شمار نہیں کیا کہ وہاں اکثر ہم روپیہ باہر منتقل نہیں کر سکتے۔ایسے ممالک میں جو چندے کی ریڑھ کی ہڈی بنا رہے ہیں ان میں تو نمایاں اضافہ ہوا ہے اس لئے ہمارا جو شعبہ ہے اسکو اپنے اعداد وشمار بھی درست کرنے چاہیں اور توجہ دلانے سے کام کو تیز کرنا چاہیے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ بہت جلد یہ رقم کم سے کم ایک لاکھ تک تو ضرور پانچ جائے گی کیونکہ پاکستان کے حالات میں اگر وہ 27 لاکھ سے زائد جیسا کہ دینے والے ہیں امید ہے انشاء اللہ 30 لاکھ تک وہ دے دیں گے۔پاکستان کے حالات میں اگر وہ اتنی قربانی دے سکتے ہیں تو بیرونی حالات میں کم سے کم پاکستان جتنی قربانی ساری دنیا کو دینی چاہیے یہ کم سے کم معیار ہے اسکی طرف نسبتا زیادہ توجہ کریں۔اور آخری بات یہ ہے کہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کریں اور ان کے ذریعہ چندے