خطبات وقف جدید — Page 332
332 حضرت خلیفة المسیح الرابع بہر حال بڑی تیزی کے ساتھ جماعت ہندوستان نے Respond کیا ہے نیک کاموں کی تحریک میں لبیک کہا ہے یہاں تک کہ میں نے محسوس کیا کہ اب ان کے اندر کام کا جذبہ تو ہے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن پیسے پورے نہیں اور جو قربانی کے معاملہ میں بعض جگہوں میں سستی تھی اسکی طرف انجمن قادیان ابھی تک توجہ نہیں کرسکی۔با وجود اسکے کہ یہاں سے بڑھانے کی کچھ کوشش کی گئی ہے لیکن خدا نے ہندوستان کو جتنی استطاعت بخشی ہے اتنا قربانی میں حصہ نہیں لے رہا اس لئے کام تو بہر حال نہیں روکنا وقت پہ خدا توفیق دے گا پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے لیکن اس عرصہ میں ہم نے باہر سے مدد کرنی ہے۔چنانچہ وقف جدید کی جو بیرونی تحریک ہے اسکا ایک بڑا مقصد یہی تھا اس کے فوائد اللہ کے فضل سے اتنے زیادہ ہیں اسکے نتیجہ میں جو نتائج ظاہر ہوئے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ بعض ممالک میں اگر ہم ہیں روپے صرف کریں تو جو نتیجہ نکل رہا ہے ہندوستان میں ایک روپیہ خرچ کرنے سے بھی وہی نتیجہ نکل رہا ہے یعنی بعض جگہ بیسیوں گنا زیادہ خرچ کے مقابل پر پھل مل رہا ہے۔افریقہ میں بھی بعض ایسے حالات ہیں۔مختلف ممالک کے مختلف حالات ہوتے ہیں۔جہاں خدا کی تقدیر آپ کو پھل زیادہ دے رہی ہو وہاں اس واقعہ کو نظر انداز کر دینا اور اس سے استفادہ نہ کرنا یہ خدا کی تقدیر کی ناشکری ہے۔پس تمام دنیا میں جو وقف جدید کے نام پر خدا کی راہ میں آپ سے رقم لی جاتی ہے اسکا یہ مصرف ہے اور شدھی کی تحریک کے مقابل پر جو جماعت احمدیہ نے تحریک شروع کی اور خدا کے فضل کے ساتھ انتہائی کامیابی کے ساتھ کی اس میں بھی وقف جدید نمایاں طور پر حصہ لے رہی ہے۔بعض علاقوں میں جہاں غیروں نے سکول بنائے تھے ہسپتال شفا خانے بنائے تھے، اس طرح وہ مقامی طور پر اپنے اثرات پیدا کر رہے تھے مثلاً عیسائی ہیں جو مسلمانوں کو مرعوب کر رہے تھے یا شیڈول کاسٹ کے لوگوں کو بھینچ رہے تھے وہاں بھی وقف جدید کی طرف سے جوابی کارروائی کسی رنگ میں شروع ہوگئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح نصرت جہاں نے افریقہ میں کام کیا ہے اسی طرح ایک نصرت جہانِ نو تحریک ہندوستان کے لئے ہونی چاہیے۔وہاں بھی انہیں خطوط پر کام کو آگے بڑھانا چاہیے کیونکہ وہاں اللہ کے فضل سے پھل کی غیر معمولی توقع ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ جس رفتار سے ہم آگے چل پڑے ہیں ہم بہت جلد انشاء اللہ کامیاب ہونگے۔ہماری پہلی منزل تو یہ ہے کہ پارٹیشن کے وقت تقسیم ہند کے وقت ہندوستان میں جماعت احمدیہ کا جو مقام اور مرتبہ تھا اسکو پہلے حاصل کریں گے۔اس کے بعد اگلا قدم یہ ہو گا کہ اس کو بنیاد بنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان مبشر الہامات کی تعبیر کی طرف آگے بڑھیں گے جو ہندوستان میں اسلام اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کی ترقی سے وابستہ ہیں ان کے متعلق جو الہامات نازل