خطبات وقف جدید — Page 331
331 حضرت خلیفہ المسح الرابع میں کم پھل ملا۔پس یہ جو اعداد و شمار کے جائزے ہیں یہ بہت سی باتوں میں راہنمائی کرتے ہیں۔راہنمائی اسلئے کرتے ہیں کہ ہم ان سے استفادہ کریں۔جہاں تک بیرونی جماعتوں کا تعلق ہے اس کا مختصر جائزہ بھی پیش کر دیتا ہوں۔یہ ابتلاء کے زمانے کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے کہ وقف جدید جو پہلے پاکستان تک ہی محدود تھی اس کا قربانی کا دائرہ ساری دنیا تک پھیلا دیا گیا لیکن اس سے استفادے کا دائرہ ساری دنیا میں اس رنگ میں نہیں پھیلایا گیا۔استفادہ دو طرح سے ہے ایک تو یہ کہ جو قربانی کرتے ہیں ان کو روحانی ترقی ملتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں حمتیں نصیب ہوتی ہیں یہ دائرہ بہر حال ساری دنیا پہ پھیل چکا ہے لیکن اس کی آمد کہاں خرچ کی جائے گی۔یہ دائرہ ہند و پاک تک محدود ہے چنانچہ ہندوستان میں میں نے محسوس کیا کہ کئی لحاظ سے بہت کمی رہ گئی ہے اور ان کو بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔ایک وقت تھا کہ جب ہندوستان دینی معاملات میں تنہا ساری دنیا کی امداد کر رہا تھا کوئی بھی دنیا کا مشن نہیں تھا جو آزاد ہو۔ہندوستان کی غریب احمدی جماعتیں ساری دنیا کی مدد کر رہی تھیں انہوں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ ہمارا روپیہ کہاں جا رہا ہے۔اب وقت ہے کہ تمام دنیا کی جماعتیں ہر معاملے میں نہ سہی بعض معاملات میں اس قرضہ حسنہ کو چکانے کی کوشش کریں اور نیک کاموں میں ہندوستان کی جماعتوں کی مدد کریں۔اس کی خصوصیت کے ساتھ اسلئے ضرورت پیش آرہی ہے کہ جب میں نے پاکستان کے بننے کے بعد سے اب تک کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا تو مجھے ایک چیز میں صدمہ پہنچا یا میری توقعات کو ٹھوکر لگی۔میرا یہ خیال تھا کہ پاکستان بننے کے وقت ہندوستان کے جتنے احمدی ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور ہندوستان میں جتنی جماعت کی کمی آئی تھی اب تک اتنا وقت گزر چکا ہے کہ وہ کی تبلیغ کے ذریعہ اور عام دنیاوی قدرتی نشو ونما کے ذریعہ پوری ہو چکی ہوگی لیکن ابھی ہم اس سے بہت پیچھے ہیں۔ہندوستان سے جتنے احمدی ہجرت کر کے نکلے ہیں ابھی تک اتنے عرصہ کے باوجود وہاں کی جماعتیں اس معیار تک نہیں پہنچ سکیں نہ عددی لحاظ سے نہ مالی استطاعت کے لحاظ سے نہ قربانی کے معیار کے لحاظ سے اور نہ تبلیغ و اشاعت کے لحاظ سے بھی جہاں پہلے بہت تیزی کے ساتھ جماعتیں ترقی کر رہی تھیں وہاں خاموشی پیدا ہوگئی ہے تو اس وجہ سے جب ہندوستان کی جماعت کو تیز کیا گیا انکو سمجھایا گیا کہ کہاں کہاں ہم نے کس کس رنگ میں کام کرنا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا کی رحمت سے Potentioal موجود رہتا ہے صرف چھیڑنے کی بات ہے جیسے اقبال نے کہا: ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی تو واقعہ یہ ہے کہ ہماری مٹی زرخیز ہی رہتی ہے خواہ خشک سالی کا وقت ہو یا تر سالی کا وقت ہو