خطبات وقف جدید — Page 312
312 حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے اس معاملہ میں جماعت پر محنت کی ہے بے انتہا ایسے خطبات دیئے ایسی تقاریر کیں ایسے قرآن کریم کے نکتے بیان کئے قربانیوں کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ رفتہ رفتہ جماعت کو ایک بہت ہی بلند مقام پر پہنچا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس مقام پر جماعت کو ایک لمبے عرصہ تک قائم رکھے اور اس روپے کی حفاظت کرنے والے متقی فرمانبردار کارکن عطاء کرتا رہے۔مجھے تو یہی فکر گی رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہی فکر تھی آپ کو اللہ تعالیٰ نے جب کشفی نظاروں میں بتایا کہ بے انتہا اموال ہیں جو اللہ تعالیٰ جماعت کے قدموں میں ڈالے گا تو آپ کو یہ فکر لگی ہوئی تھی کاش ان اموال کو سنبھالنے والے متقی نیک دل لوگ مالوں سے مستغنی خدا کی راہ میں خود بڑھ کر قربانی کرنے والے اور امین مجھے ملیں جوان اموال کی حفاظت کریں۔اب خدا کے فضل سے اب ان وعدوں کے پورا ہونے کا دور آ رہا ہے۔صرف امانت کیلئے دعا کرنے کا وقت نہیں بلکہ تقویٰ کے لئے بھی دعا کرنے کا وقت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تقویٰ سے یہ روپیہ پھوٹتا ہے لیکن جب پھوٹتا ہے تو بعض لوگوں کے تقوی کو ڈگمگا بھی دیتا ہے ان کیلئے ابتلا بھی بن جاتا ہے مگر خدا نہ کرے کہ جماعت کسی ایسے دور میں داخل ہو۔ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا لیکن دعا ضرور کرنی چاہیے۔آج ہی سے دعا شروع کرنی چاہیے۔آج کیلئے بھی کل کے لئے بھی پرسوں کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں دل اتنے کھول دیئے ہیں ظرف بڑھا دیئے ہیں ،اموال میں برکتیں دے رہا ہے ضرورتیں پوری فرما رہا ہے تو وہاں پھر اپنے فضل اور رحم کے ساتھ خدا کا تقویٰ رکھنے والے امین خدا کی راہ میں پیسہ پیسہ مناسب جگہوں پر خرچ کرنے والے متقی خادم دین بھی عطا فر ما تا رہے۔وقف جدید کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کثرت سے ایسے خادم دین میسر ہیں جو نہایت قربانی کیساتھ بے نفسی کے ساتھ بڑے مشکل حالات میں جماعت کی خدمت کر رہے ہیں اور سارے پاکستان میں بڑی غریبانہ زندگی بسر کرتے ہوئے بغیر شکوہ زبان پر لائے ہوئے دیہاتی جماعتوں کی حالت سدھارنے میں مصروف ہیں۔اسی طرح ہندوؤں کے علاقہ میں انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔اس سال کی جور پورٹ ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب اس علاقہ میں قحط کے باعث فاقہ کشی تھی تو اس وقت جماعت کی طرف سے ان ہندوؤں اور نو مسلموں کی خاص طور پر بہت خدمت کی گئی ہے۔مگر غربت اور قحط کے بعض ایسے دور وہاں آئے کہ جن میں پھر جماعت نے ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں کیا۔خدا کے بندوں کو ایسے موقع میں ایک ہی نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کو یہ توفیق ملی کہ ان کی بھوک کی شدت کو کم کیا۔ان کو زندہ رکھنے کیلئے کم سے کم زندگی کا گزارہ مہیا کیا۔اگر چہ پوری طرح پیٹ