خطبات وقف جدید — Page 313
313 حضرت خلیفہ امسیح الرابع بھرنے کی جماعت میں استطاعت ہی نہیں تھی لیکن ان کی مدد کی ان کو وقت کے اوپر وقف جدید کے کارکنان نے سندھ کی ایسی جماعتوں میں پہنچا دیا جہاں خدا کے فضل سے ان کیلئے دیکھنے والے ان کا خوردونوش کا انتظام کرنے والے بھی اور ذریعہ روزگار مہیا کرنے والے لوگ بھی موجود تھے جماعتوں نے وقت کے اوپر ان کو سنبھالا یہ بھی بڑی خدمت ہے۔اس دفعہ کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی نقالی میں جماعت مودودی بھی اس میدان میں کو دی ہے اور ظاہر بات ہے کہ ان کو کہیں سے روپیہ ملا ہوگا تو انہوں نے اس میدان میں قدم رکھا ہے ورنہ بغیر روپیہ ٹپکے ہوئے وہ تو اس میدان میں نہیں ٹپکا کرتے اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے یہ روپیہ عموماً امریکہ کا ہوتا ہے۔ایک دفعہ پہلے پاکستان میں پی ایل اونمبر 80 سکیم چلی تھی کہ امریکہ پاکستان کو گندم کی امداد دے گا اور اس کی آمد امریکہ باہر نہیں لے جائے گا بلکہ پاکستان میں خرچ کرے گا۔ان دنوں انہوں نے عیسائی مشنز کے ذریعہ ان علاقوں میں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں بہت روپیہ تقسیم کرایا تھا ، بہت خوراک بھیجی تھی اور اس ذریعہ سے ان کو عیسائی بنانے کی کوشش کی تھی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کو خدا نے یہ توفیق بخشی کہ اس نے ان کی اس ساری تحریک کو بالکل ناکام بنا کے رکھ دیا۔ایک آنہ بھی خیرات کا ان کو نہیں دیا۔بغیر پیسے کے پیسوں والوں سے مقابلہ کیا اور ان کے ایمان کو بچایا اور عیسائی ہونے کی بجائے خدا تعالیٰ نے انکو مسلمان بننے کی توفیق بخشی اور وقف جدید کو اس خدمت کا موقع عطا فرمایا۔اب وہاں غالبا وہی روپیہ میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن جو حالات نظر آ رہے ہیں امریکہ جس طرح ہمیشہ سے ان جگہوں پر روپیہ خرچ کرتا ہے وہ مودودی جماعت کے ذریعہ ) تقسیم ہوا ہوگا امریکہ نے نہیں دیا تو زکوۃ میں سے انکو کچھ ملا ہوگا۔بہر حال جو بھی ہے انفرادی مالی قربانی کا اس میں دخل نہیں۔کہیں سے روپیہ آتا ہے خرچ کرنے کیلئے تو ایسے لوگ ایسے کاموں کیلئے آمادہ ہوتے ہیں جنہیں اس میں سے حصہ بھی ملتا ہے جس میں سے ان کو کئی قسم کی سہولتیں مہیا ہوتی ہیں۔بہر حال وقف جدید کی رپورٹ تھی کہ وہ بھی میدان میں کو دے ہیں اور انہوں نے اس دفعہ خاص قحط کے زمانہ میں خرچ کیا ہے۔جہاں تک اس بات کی فی ذاتہ نیکی کا تعلق ہے اس سے جماعت احمدیہ کو ان سے کوئی حسد نہیں۔اگر جماعت احمدیہ کی شدید ترین دشمن جماعتیں بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی میں کوئی نیک کام کریں تو بڑی اچھی بات ہے نیک کام انکو بھی کرنا چاہیے۔خدا کے بندوں کے دُکھ دور ہونے چاہیں۔یہی ہمارا مقصد حیات ہے۔لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس ذریعہ سے وہ صداقت کو نقصان پہنچائیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو نقصان پہنچائیں اور یہ کوشش کریں کہ لوگوں کے دل احمدیت سے ہٹ جائیں اور وہ پھر یا واپس ہندو ہونا شروع ہو