خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 311 of 682

خطبات وقف جدید — Page 311

311 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع پچھلے سال میں نے وقف جدید کو بھی عالمگیر تحریک کر دیا تھا اور خدا تعالیٰ نے جماعت کو اس کا بہت ہی فائدہ پہنچایا۔معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل پر تسلط تھا جس کے نتیجہ میں اس تحریک کو عالمگیر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ضرورت سے بڑھ کر دل میں بڑے زور سے ایک خواہش اٹھی کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسے عالمگیر کیا جائے کیونکہ اس کے بعد جب ہندوستان کے حالات پر میری نظر پڑی تو شدھی کی وجہ سے جماعت کو وہاں بہت روپے کی ضرورت تھی اور ہندوستان کی جماعتوں میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر وہاں شدھی کی طرف توجہ کر سکیں۔اور اس کے علاوہ بھی ہندوستان میں جو تبلیغ کے میدان کھل رہے ہیں وہ غیر معمولی ہیں۔نئی نئی قوموں میں نئے نئے علاقوں میں خدا کے فضل سے ترقیات کے بڑے بڑے دروازے کھل رہے ہیں۔جو سوئی ہوئی جماعتیں تھی وہ جاگ اٹھی ہیں ان کے اندر نئے ارادے پیدا ہور ہے ہیں۔اس پہلو سے ہندوستان ذہن میں تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اتنی شدت سے شدھی کے سلسلہ میں روپے کی ضرورت پڑے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر کی جماعتوں کو نمایاں طور پر وقف جدید میں حصہ لینے کا موقعہ ملا اور انگلستان کی جماعت نے بھی ماشاء اللہ دس ہزار پاؤنڈ کا وعدہ کیا۔جس میں سے اس وقت تک چھ ہزار سات سو تک وصول ہو چکا ہے۔باقی امید ہے انشاء اللہ آئندہ مہینے کے اندر اندر یعنی اسی ماہ کے اندر وصول ہو جائے گا اور آئندہ سال کے لئے امیر صاحب انگلستان نے اس وعدہ کو بڑھا کر گیارہ ہزار پاؤنڈ کر دیا ہے یعنی یہ انگلستان کا پہلے سال کا وعدہ ہی اتنا ہے جو وقف جدید کے آغاز کے وقت دو تین سال تک نہیں ہو سکا تھا یعنی پاکستانی کرنسی میں اگر اس کو تبدیل کریں تو دو لاکھ پچاس ہزار کے قریب وعدہ بنتا ہے اور وقف جدید کیساتھ میں پہلے سال بلکہ پہلے دن سے ہی منسلک رہا ہوں اس لئے مجھے پتہ ہے کہ شروع کے دو تین سال تک ہم دو لاکھ سے اوپر نہیں تھے نیچے تھے تو اللہ تعالیٰ جہاں ضرورتیں بڑھا رہا ہے وہاں خدا کے فضل سے جماعت کی طاقتیں بھی بڑھاتا چلا جارہا ہے اس کا دل کھولتا چلا جارہا ہے۔کسی مقام پر بھی ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خطرہ محسوس نہیں ہوا کہ کام آپڑا ہے اور روپیہ نہیں ہے۔ایسی والہانہ محبت کیساتھ خدا کی راہ میں جماعت خرچ کرتی ہے کہ بلاشبہ فی زمانہ جس کی کہیں اور کوئی مثال نہیں ملتی اس میں کوئی شک نہیں ہے۔دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جو خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے میں جماعت احمدیہ کی پاتال کو بھی پہنچ سکے اور اس کیلئے حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے لمبے عرصہ تک محنت کی ہے اس محنت کو بھی بھلانا نہیں چاہیے۔آج ہمارے دل کھلے ہیں آج ہمارے ہاتھ بندشوں سے آزاد ہوئے ہیں اور کھل کر بڑی قوت کے ساتھ خدا کی راہ میں جوش کیساتھ اپنی جیبیں خالی کرتے ہیں۔تو یہ چیز اچانک پیدا نہیں ہوئی ایک لمبے عرصہ (باون سال) تک حضرت مصلح موعود