خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 232 of 682

خطبات وقف جدید — Page 232

232 حضرت خلیفتہ اسیح الثالث عمامہ عرب کا وہ بھی پہنا اور بڑا عمامہ بھی پہنا اور قمیص جتنی قمیصوں کی قسمیں اس وقت رائج تھیں ساری استعمال کیں اور دھوتی بھی پہنی اور پاجامہ بھی پہنا اور شلوار بھی پہنی۔سارے حوالوں کا ذکر کر کے پھر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نبی کرم ﷺ کی سنت یہ ہے کہ جو لباس میسر آئے وہ استعمال کروں۔بڑا صحیح نتیجہ نکالا ہے اور ساری دنیا کیلئے بڑی عجیب گائیڈنس GUIDANCE دے دی۔جو میسر آتا ہے وہ پہنو ٹھیک ہے۔اسلام نے کہا ہے بعض ننگ ہیں جن کو اسلام کہتا ہے ڈھانکو وہ ڈھانکنے چاہئیں اور اگر کوئی ضرورتیں ہیں وہ پوری ہونی چاہئیں۔اسلام کہتا ہے کہ ایسی طرز نہ ہو کہ نمائش کے خیال سے پہنا جائے۔ضرورت کیلئے نہ ہو بلکہ نمائش کیلئے ہو۔اسلام کہتا ہے کہ نمائش نہیں کرنی۔اس حد تک وہ ٹھیک ہونا چاہیے۔تو یہ جو آداب ہیں جو اخلاق ہیں معلم کو موٹے موٹے ہی بتانے پڑیں گے اس کے لئے ایک چھوٹی سی نوٹ بک ان کیلئے تیار کریں اور نوٹ بک کی تیاری میں بھی نمائش نہ ہو سادہ زبان میں ہر بات کو COVER کرنے والی ہو وہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے اور جس رنگ میں ،جس لباس میں جس ذہن کا ، جس اخلاق کا، جس روحانیت کا انسان خدا تعالیٰ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے ہم وہی بن جائیں۔پھر حضور نے فرمایا: کھانسی آرہی ہے ) ایک خیال آ گیا۔ہمارے جلسہ سالانہ کی حسین یادیں اور گہرے اثرات تو چلتے ہیں ،سالوں چلتے ہیں اگلے جلسہ تک ان کے اندر اور شامل ہو جاتے ہیں کچھ اس قسم کی چیزیں بھی ہیں۔مثلاً کھانسی ہو گئی۔اب جلسے کی کھانسی ہے وہ ابھی تھوڑی سی چل رہی ہے خطبے میں نہیں آئی بعد میں آگئی۔میرے بھی کافی فرق پڑ گیا ہے۔رستے میں میں نے دیکھا کہ دکانیں ، جلسے میں ایک ان کا فائدہ تھا ضرورت مندوں کیلئے وہ چیزیں مہیا کر رہی تھیں۔کھانے پینے کی ، دوسری ، اب وہ چلی گئیں۔ان کے اثرات پڑے ہوئے ہیں کھنڈر نظر آرہا ہے کھنڈر نہیں رہنا چاہیے اگلے جمعہ تک کہیں بھی۔ان ملبوں کو خدام الاحمدیہ اٹھا دے اور جس طرح میں نے کہا تھا کہ غریب دلہن کی طرح ربوہ کو سجا دو جلسہ کے استقبال کیلئے۔اب میں کہتا ہوں کہ اس غریب دلہن نے جلسہ کی خدمت کی ہے۔کچھ خدمت میں دھبے پڑ جاتے ہیں کہیں داغ پڑ گیا۔سالن گر گیا کہیں مٹی کا داغ لگ گیا۔پھر اس کو دوبارہ غریب دلہن کی طرح سجاد و تا کہ اس کو یہ شکوہ نہ رہے کہ مجھ سے کام لے لیا اور پھر مجھے بھول گئے آپ۔روزنامه الفضل ربوہ 18 ستمبر 1982ء)