خطبات وقف جدید — Page 231
الله 231 حضرت خلیفہ امسیح الثالث وہ بے چین نہیں اور تڑپ نہیں ہے اس میں کہ جہاں دکھ نظر آتا ہے اسکو حتی الوسع دور کرنے کی کوشش کرے وہ ہمارے کام کا نہیں۔اس کو اللہ تعالیٰ نے کسی اور کام کیلئے بنایا ہے۔تو اچھے معلم زیادہ معلم دیں۔جب معلم زیادہ ہوں تو جتنی رقم کی ضرورت پڑے اس کے مطابق رقم دیں۔جو معلم ہیں وہ نیک نیتی اخلاص اور جذبہ کے ساتھ آئیں۔جو منتظمین ہیں وہ ان کو ابھار میں اور ان کے لئے ایسا نصاب اور ان کی ہدایت کے لئے ایسی چھوٹی چھوٹی کتا بیں آداب کے متعلق اور اخلاق کے متعلق شائع کریں اور انکی ایک نوٹ بک بنادیں سو صفحے کی۔اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ڈیڑھ سو صفحہ ہو زیادہ سے زیادہ جس میں اسلام نے جو آداب سکھائے ، اسلام نے جو اخلاق ہمیں بتائے ان کے اوپر ایک ایک فقرہ ہو باقی تفصیل ان کو زبانی بتادی جائے۔عثمان فودی جو ایک مجدد گزرے ہیں پچھلی صدی میں شمالی نائیجریا میں اس وقت کا جغرافیہ اور تھا ویسے کچھ اور علاقے بھی تھے بیچ میں۔انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے بدعت اور سنت پر اور بڑی اچھی ہے، حوالے دے کر نبی کریم حملے کے ارشادات اور آپ کی سنت کے حوالے دے کر مختصر بھی ہے اور اس سے استفادہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔آپ نے کہیں نہ کہیں تو حدیث سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد لینا ہے۔انہوں نے اپنا استدلال کیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ انکے زمانے میں جو استدلال درست تھا اب اس کے اندر کوئی اور بطن چھپا ہوا ،سامنے ہمارے نظر آجائے تو اس کو شامل کر لیں بڑی اچھی کتاب ہے۔مثلاً انہوں نے کپڑے کے متعلق کہا۔ایک میں بات بتادوں اگر اسلام ساری دنیا کیلئے ہے اور یقیناً اسلام ساری دنیا کیلئے ہے تو پھر ہر ملک کا لباس اسلامی لباس ہے یہ اس میں خشکی جب دماغ میں ہو یہ چیز نہیں لیتا۔ہر ملک کا لباس اسلامی لباس ہے۔اگر کسی ملک کا لباس اس قسم کا ہے کہ اس جنگ کو وہ صحیح طور پر ڈھانپتا نہیں جو اسلام نے کہا ہے ڈھانپوتو اتنی تبدیلی اس لباس میں ہو جانی چاہیے کیونکہ ایک اور حکم ہے جسکی خلاف ورزی کر رہا ہے وہ۔لیکن یہ کہنا کہ مغربی افریقہ کا لباس اسلامی نہیں باوجود اس کے کہ وہ یہ شرائط پوری کر رہا ہے کہ ستر جو ہے اس کو ڈھانک رہا ہے اور پنجاب کا جو لباس ہے وہ اسلامی ہے یا عرب کا لباس جو ہے وہ اسلامی ہے اور یورپ کا لباس اسلامی نہیں۔یہ بات ہی غلط ہے۔ساری دنیا کا وہ لباس جو ان شرائط کو پورا کرنے والا ہے وہ اسلامی ہے۔ہم نے اپنے پورے لباس میں نماز پڑھنی ہے۔اگر کسی ملک میں ایسا لباس ہے جو نماز پڑھنے میں دقت پیدا کرتا ہے تو اتنا حصہ درستی کے قابل ہے اس کی اصلاح ہو جانی چاہیے۔انہوں نے لباس پر لکھا ہے۔اصل میں یہ مثال دینے لگا ہوں۔انہوں نے لکھا ہے پورے حوالے دے کر سر کا لباس اوپر کے دھڑ کا لباس۔نچلے دھڑ کا لباس۔تینوں کو علیحدہ علیحدہ لیا ہے۔چھوٹا سا ایک صفحہ پونا صفحہ ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ٹوپی بھی پہنی سر پر رومال بھی باندھا سر پر اور اس قسم کا جواب رواج ہے جس طرح