خطبات وقف جدید — Page 217
217 حضرت خلیفہ المسح الثالث خلاصہ خطبہ جمعہ فرموده 31 جنوری 1978 ء بمقام ربوہ) حضور نے فرمایا انسان اسی ذات پر صحیح معنوں میں اور پورے اطمینان کے ساتھ تو کل کرسکتا ہے جو عزیز بھی ہو اور رحیم بھی۔یعنی ہر ھے پر قادر بھی ہو اور پھر اپنی عظیم قدرت سے اپنے بندوں پر بار بار رحم کرنے والا بھی ہو۔انسان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے اس امر کا محتاج ہے کہ وہ بار بار تو بہ اور استغفار کے ذریعہ اپنے رب کی طرف جھکے اور اس کا یہ جھکنا محض زبان سے نہ ہو بلکہ عمل سے بھی ہو۔یعنی قرآن کریم نے جو احکام دئے ہیں ہمارے اعمال ان کے مطابق ہوں مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4) اس میں اموال کو اور پھر اپنے اوقات کو خدا کی راہ میں خرچ کرنا بھی مراد ہے اور اس بارہ میں رسول اکرم ﷺ کے صحابہ " کا عظیم نمونہ ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے۔صلى الله حضور نے فرمایا ہماری جماعت میں جتنی تحریکیں بھی کی جاتی ہیں ان سب کا مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور رسول کریم ﷺ کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنا ہے انہی تحریکوں میں سے ایک تحریک وقف جدید بھی ہے جس کے نئے سال کے آغاز کا میں آج اعلان کرتا ہوں۔اس تحریک کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہماری جماعتوں میں ہر جگہ ایسے معلم موجود ہوں جو روز مرہ کی باتوں میں قرآن کریم کے احکام بتائیں اور لوگوں کی تربیت کریں۔حضور نے فرمایا وقف جدید کے معلم ہمیں مناسب تعداد میں نہیں مل رہے ہمیں ایسے بہت سے مخلص احمدی معلم ملنے چاہئیں جن کے دل میں قرآنی احکام پر عمل کرنے اور کرانے کی تڑپ ہو اور پھر ان معلمین کے اخراجات پورا کرنے کیلئے ہمیں چندہ بھی دینا چاہیے۔اس چندہ کا ایک حصہ میں نے احمدی بچوں اور بچیوں کی تربیت کی غرض سے ان کے ذمہ لگایا تھا۔میں چاہتا ہوں کہ کوئی احمدی بچہ اور بچی ایسی نہ رہے جو اپنی خوشی سے رضا کارانہ طور پر اپنے جیب خرچ میں سے تھوڑی بہت رقم بچا کر اس تحریک میں پیش نہ کرے۔ان کے علاوہ بڑوں کو بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق چندہ وقف جدید میں ضرور حصہ لینا چاہیے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اموال میں بڑی برکت ڈالے آپ کی قربانی کو قبول کرے اور اس کے فضلوں کے آپ وارث بنیں۔آمین (روز نامه الفضل ربوہ 14 جنوری 1978ء)