خطبات وقف جدید — Page 211
211 حضرت خلیفة امسح الثالث طرح اس وقت بہتوں کے چہرے پر ہنسی آگئی ہے کیونکہ بات ہی ایسی ہے تو ہمیں یہ بات سوچنی پڑے گی اور اس قسم کی بنیادی باتیں یاد کرنی پڑیں گی۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ سود دوسوسال کے بعد ہمارے متعلق بھی اس قسم کی باتیں مشہور ہونے لگ جائیں۔بعض چیزیں ہر وقت ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہیں ان سے متعلقہ مسائل یا د ہونے چاہئیں۔مثلاً نکاح ہے، ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے صحت اور عمر دے تو اس کو یہ تجر بہ بھی کرنا پڑتا ہے اور ایسے لوگ چاہئیں جو نکاح کے اعلان کے وقت اور اس جوڑ کے وقت جو بڑا اہم بھی ہے اور بڑا نازک بھی ہے دعاؤں کے ساتھ یہ اعلان کریں کہ یہ جوڑ قائم ہو گیا ہے لیکن اگر اعلان کرنے والے اس کی اہمیت ہی نہ سمجھیں اور اس مسئلہ ہی کو نہ جانیں تو پھر بہت سی برکات اور دعاؤں سے ایسے لوگ محروم ہو جائیں گے۔یہ تو ہم پسند نہیں کرتے۔وقف جدید کا سارا کام چلانے کیلئے پیسے کی بھی ضرورت ہے تاہم پیسے کی اہمیت سب سے آخر میں ہے اصل تو وہ دل ہے جس کے اندر خدا تعالیٰ کا پیار اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت شعلہ زن ہے۔کئی دفعہ غیر پوچھتے ہیں کہ آپ کو اتنے پیسے کہاں سے آجاتے ہیں؟ میں ان کو جواب دیا کرتا ہوں کہ ہماری دولت سکہ اور روپیہ وغیرہ نہیں ہے ہماری دولت تو وہ دل ہیں ، وہ مخلص دل جو منور سینوں کے اندر دھڑک رہے ہیں۔پھر کسی اور جگہ ہمیں جانے کی ضرورت نہیں خدا کے در پر جانے کی ضرورت ہے۔ہمارے لئے ایک ہی در ہے۔خدا کرے کہ یہ منور سینے ہمیشہ جماعت کے اندر رہیں اور ان میں دھڑ کنے والے دل ہمیشہ ہی مخلص اور ایثار پیشہ دل بنے رہیں۔غرض وقف جدید کے بجٹ میں بڑی تھوڑی رقم ہوتی ہے۔جماعت یہ کوشش کرے کہ ان کی ضرورت پوری ہوتا کہ جو جماعت کی ضرورت ہے وہ پوری ہو اور ضرورت کے احساس اور ذمہ داریوں کے فقدان کے نتیجہ میں جو خرابی پیدا ہوسکتی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے اور محفوظ رکھے۔اس سلسلہ میں صرف وقف جدید نہیں بلکہ ساری جماعت کا یہ کام ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے رسائل شائع کرے۔اول تو یہ ضروری ہے کہ ہمارے ہر بچے کو پڑھنا آتا ہو۔اردو کی عبارت پڑھنی آتی ہو۔ویسے ہمارے بہت سے ایسے احمدی دوست ہیں جو اپنے دستخط بھی نہیں کر سکتے لیکن ہیں وہ عالم۔اس لئے دوسری چیز ” پڑھنا آتا کے ساتھ میں یہ کہوں گا کہ ”سننا بھی آتا ہو، یعنی دین کی باتیں سننے کا شوق پیدا ہو اور سنانے والے بھی موجود ہوں۔مثلاً جو دوست ہماری مساجد میں خطبہ جمعہ سنتے رہتے ہیں ان کا علم دوسروں کی نسبت بہت بڑھ جاتا ہے کیونکہ مختلف مسائل کے متعلق باتیں ہوتی رہتی ہیں۔پس بنیادی باتوں کے متعلق جو رسائل ہیں وہ بچوں کے ہاتھوں میں دیئے جائیں۔ایسے رسائل کا کثرت سے شائع ہونا بھی بڑا ضروری ہے۔ایک تو ہو 66