خطبات وقف جدید — Page 212
212 حضرت خلیفتہ امسح الثالث بنیادی علمی باتیں ہیں یا آئندہ کی خبریں ہیں یا روحانیت کے بلند مقام تک پہنچانے کیلئے جو کوشش ہے وہ تو اپنی جگہ بہت ضروری ہے مگر وہ تو انتہا ہے اور انتہا بہر حال بلند بھی ہے اور اہم بھی ہے ابتدا سے۔لیکن اگر ابتدا ہی نہیں تو انتہا کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔ابتدا سے دینی تعلیم کا خیال رکھنا چاہیے یعنی جب بچہ سننے کے قابل ہوتا ہے اس وقت سے دینی تعلیم سکھانا شروع کرنا چاہیے۔میں نے اکثر دیکھا ہے اور بڑا نمایاں فرق محسوس کیا ہے مثلاً ایک خاندان ہے اس کا بچہ جب سننے کے قابل ہوتا ہے یعنی بات سن کر سمجھ لیتا ہے تو والدین اس کے کان میں نیکی کی باتیں ڈالتے ہیں۔چنانچہ جن بچوں کے کانوں میں بچپن میں دین کی باتوں کی آواز پڑتی ہے وہ بڑے ہو کر ان بچوں کے مقابلہ میں ہزار گنا، لاکھ گنا بلکہ کروڑ گنا اچھے ہوتے ہیں جن کے ماں باپ کہتے ہیں بچہ آپ ہی پڑھ جائیگا آپ ہی سیکھ جائیگا اسلئے وہ ان کے کانوں میں کوئی نیکی کی بات نہیں ڈالتے۔پس دوست اپنے بچوں میں سننے کی خواہش پیدا کریں اور ان کو سنانے اور پڑھانے کی خود اپنے اندربھی عادت پیدا کریں کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو جو بیان سکھا یا تھا وہ بنیادی علم ہے جس میں سارے علوم آجاتے ہیں وہ اس زمانے میں ہر پہلو سے عروج کو پہنچ گیا ہے اسلئے اس زمانہ میں ترقی اس آدمی کے مقدر میں ہے جو علم کی طرف توجہ کرتا ہے۔میں اس وقت علمہ البیان کی تفسیر میں تو نہیں جاؤں گا۔یہ اپنی ذات میں ایک بڑا لمبا مضمون ہے۔اس وقت میں بتا یہ رہا ہوں کہ وقف جدید نے جن چھوٹے چھوٹے دیہات میں معلم بھیجے ہیں وہاں جو دوسری ضروریات ہیں وہ بھی پوری ہونی چاہئیں۔ان کے پاس لٹریچر ہونا چاہیے۔لوگوں کے اندر سننے کی اور خود ان کو سنانے کی عادت ڈالنی چاہیے تا کہ وہ اسلام کی ابتدائی تعلیم کو بھولیں نہیں۔جو رضا کار معلم ہیں وہ بھی ہمیں ملنے چاہئیں۔تین مہینے کا یہاں کورس ہے وہ یہاں تین مہینے رہیں۔دینی کتب پڑھیں اور مسائل سیکھیں، ان کو یاد رکھیں۔بعض باتیں ان کو یاد کروائی جائیں۔ہماری کم سے کم جو ضرورت ہے وہ تو ہر جگہ بہر حال پوری ہو جانی چاہیے۔اس میں تو کوئی کوتا ہی نہیں ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اسکی تو فیق عطا فرمائے اور جو کچھ میں نے کہا ہے وہ دراصل وقف جدید کے بیسیویں سال کے آغاز کا اعلان ہے۔خدا کرے ہر نیا سال پہلے سال سے زیادہ برکتوں والا ہو ہمارے لئے بھی اور دنیا کے لئے بھی۔آج صبح ہمارے ایک مخلص بزرگ اور بھائی محترم ملک غلام فرید صاحب کی وفات ہوگئی اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ملک صاحب کی ساری زندگی ہی حقیقی جذبہ کے ساتھ گذری ( جس کا میں نے ابھی ذکر کیا تھا ) آپ نے غیر ممالک میں ہمارا جو تبلیغی پروگرام ہے اس میں بھی حصہ لیا۔جرمنی میں بھی مبلغ رہے انگلستان میں بھی رہے جو تعلیم کی کوششیں ہیں جماعت کی اس میں بھی حصہ لیا۔مجلس تعلیم میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کام کیا۔ریویو آف ریلیجنز میں بھی بڑے لمبے عرصہ تک کام کرتے