خطبات وقف جدید — Page 210
210 حضرت خلیفتہ امسح الثالث سے کم معیار ہے قوم کو اس سے نیچے نہ گرنے دیا جائے۔اس ضرورت کو پورا کر دیں اور جو انہی کا کام ایک اور رنگ میں کرنے والے رضا کار معلم ہیں ان کے بارہ میں بھی ذمہ داری کا احساس نہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اس طرف توجہ کرے تو ایک وقت میں سینکڑوں رضا کار معلم یہاں آجائیں۔اس طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہیے۔ہر گاؤں اور ہر آبادی سے آنے چاہئیں۔شہروں کو نسبتا زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے عام دیہات جو ہیں ان میں سے ایک یا دو آدمی آجائیں۔ایک وقت میں ایک آجائے پھر دو ہو جائیں پھر تین ہو جائیں۔پانچ دس ایسے ہوں جن کو دین اسلام کے بنیادی اعتقادات اور ابتدائی اصول از بر یاد ہوں کچھ احادیث ان کو یاد ہوں۔قرآن کریم کے کچھ حصے ان کو یاد ہوں۔جو اخلاقی مسائل ہیں وہ ان کو یاد ہوں اور ایک دو سال کے بعد پھر وہ دو تین مہینے کیلئے آجائیں تا کہ ان کا علمی معیار اور بلند ہو جائے۔جماعت کو جہاں ضرورت کا احساس ہے وہاں جماعت کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اس کے مطابق اپنے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کریں تا کہ ان کی ضرورت پوری ہو جائے۔اگر ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا نہ ہوتو ضرورت کیسے پوری ہو جائے گی۔مرکز کی طرف سے آٹے کے مجسمے بنا کر تو ان کے پاس نہیں بھجوائے جاسکتے اور نہ پتھر کے بت اس کام کیلئے تراشے جاسکتے ہیں۔بتوں کو اور غیر اللہ کے جو دوسرے مظاہر ہیں کسی رنگ میں لکڑی کے یا بتوں کے یا تو ہمات کے ، ان کو توڑنے کیلئے اور ان کو جلانے کیلئے اسلام آیا اور اب اس زمانے میں اسلام کے اندر احمدیت قائم ہوئی ہے۔اسلام کی تعلیم کو پھیلانے کیلئے انسان نے جو کام کرنا ہے وہ تو انسان ہی نے کرنا ہے۔جو کام ایک جذبہ رکھنے والے اور ایثار پیشہ اور خدا اور رسول سے محبت رکھنے والے دل نے کرنا ہے وہ تو ایسے دل نے ہی کام کرنا ہے۔جس کام کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے واقفیت کی ضرورت ہے وہ کام تعلیم اور واقفیت کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا ، اس کے لئے تو علم پھیلانا پڑے گا، اعتقادات بتانے پڑیں گے۔بعض ایسی باتیں ہیں جن کا حافظہ کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور ان میں سے ایک نماز جنازہ ہے۔زندگی اور موت انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اسلئے ہر جگہ ایسے آدمی ہونے چاہئیں جو نماز جنازہ پڑھاسکیں۔ہماری جماعت میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کی تعلیم کافی ہے لیکن جماعت سے باہر دنیا میں مسلمان پھیلے ہوئے ہیں۔بعض دفعہ یہ اطلاع بھی آجاتی ہے کہ ایک آبادی کا جو معلم یا ملا ہے اسے نماز جنازہ کے الفاظ کا بھی پتہ نہیں۔یا نکاح کیلئے آیات ہیں۔کیونکہ ایک دوست نے بتایا کہ ایک جگہ ایک مولوی صاحب تھے ان کو نماز جنازہ میں جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ آتی تھی تو انہوں نے وہی دعا جو جنازہ میں پڑھی جاتی ہے پڑھ کر اعلان نکاح کر دیا۔غرض جو نکاح کے وقت پڑھنا چاہیے اس کا بھی پتہ نہیں تھا۔اسلئے اگر ہم نے جگ ہنسائی نہیں کروانی ، جس