خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 196 of 682

خطبات وقف جدید — Page 196

196 حضرت خلیقہ مسیح الثالث رحمتوں کا نزول ہوا وہاں یہ آنکھ کمزوریوں کو بھی دیکھتی ہے اُن کا جائزہ لیتی اور ان کا محاسبہ بھی کرتی ہے اور مستقبل میں ان کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی اور ہر آنے والی گھڑی کو پہلے سے بہتر بنانے کے سامان پیدا کرتی ہے۔اسی طرح جب یہ آنکھ اپنے نفس میں یا اجتماعی زندگی میں عیب دیکھتی ہے تو مایوسی پیدا نہیں کرتی بلکہ یہ اعلان کرتی ہے۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ۔اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونے کی ضرورت نہیں۔تم دیکھتے نہیں کہ جہاں اتنے عیب اکٹھے ہو گئے ہیں وہاں یہ خوبیاں بھی تو پائی جاتی ہیں اس لیے نگاہ مومنانہ یا مومنانہ فراست سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اُن کے لیے بھی دعائیں کرے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے سامان مانگے جو اللہ تعالیٰ سے دُور چلے گئے ہیں یہ مومنانہ فراست کی نگاہ نہ ترقیات کے دروازے بند دیکھتی ہے اور نہ مایوسی کے حالات پیدا کرتی ہے بلکہ یہ وہ نگاہ ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے حصول میں وسعت پیدا کرتی ہے لیکن وہ جو خو بیوں کے ساتھ عیبوں کو دیکھنے والی اور عیبوں کو دور کرنے کے لیے کوشش کرنے والی ہے وہ آسمانوں سے نازل ہونے والے فضلوں میں رفعتیں بھی پیدا کرتی ہے کیونکہ وہ ایک جگہ کھڑی نہیں ہو جاتی اور یہ نہیں کہتی کہ جو کچھ حاصل ہونا تھا وہ سب کچھ حاصل ہو گیا۔نیکی ہی نیکی ہے اور کوئی کمزوری نہیں اگر کوئی کمزوری نہیں تو اس کا مطلب ہے اس سے زیادہ آگے ترقی نہیں ہو سکتی اگر کمزوری نظر آتی ہے اور اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے تبھی مزید ترقیات کا امکان ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل ہر آن پہلے سے زیادہ نازل ہونے کا امکان ہے۔پس یہ آنکھ محاسبہ کرتی ہے یہ آنکھ محروم کی محرومیوں کو دور کرنے کی کوشش ہے۔انہی کوششوں میں ایک چھوٹا سا حصہ وقف جدید کا ہے۔گذشتہ سال وقف جدید کے کام میں تقریباً25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی ایسے تلخی کے زمانہ میں جبکہ توجہ مرکز کی بھی اور جماعتوں کی بھی ایک حد تک بعض ایسے عارضی کاموں اور ضروریات کی طرف تھی جو بظاہر بڑی پریشان کرنے والی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھو کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہماری اس چھوٹی سی کوشش میں بھی جس کا میں اس وقت ذکر کر رہا ہوں کم و بیش 25 فیصد اضافہ ہوا۔میں اس وقت جماعت احمدیہ کے مالی جہاد کی بات کر رہا ہوں یعنی جماعت احمدیہ کی طرف سے جو مالی قربانی اور ایثار پیش کیا جا رہا ہے اس کے پیش نظر وقف جدید کی مالی قربانیوں کی بات کر رہا ہوں۔پچھلے سال کے مقابلہ میں اس سال وقف جدید کے خرچ میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن ہم نے یہاں رُک تو نہیں جانا۔25 فیصد اضافہ کی نسبت پچھلے سال کے مقابلہ میں ہے۔یہ نسبت ہماری اصل ضرورت کا تو شاید ہزارواں حصہ بھی نہیں ہے بلکہ شاید لاکھواں حصہ بھی نہیں ہے۔پس جہاں ہم خوش ہیں کہ جماعت