خطبات وقف جدید — Page 195
195 حضرت خلیفہ امسح الثالث پہلے سے زیادہ رحمتوں، برکتوں اور فضلوں کو لانے والا ہو۔اور تیسری بات یہ ہے کہ دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا کرتا ہوں۔ایک عرب شاعر نے کہا ہے۔۔عَينُ الرَّضَا عَنْ كُلَّ عَيْبٍ كَلِيْلَةٌ كَمَا أَنَّ عَيْنَ السَّخْطِ تُبْدِى الْمَسَاوِيَا یہ شاعرانہ بیان ہے ایک حقیقت کا۔شاعر کہتا ہے کہ انسان کو دنیوی لحاظ سے دو قسم کی آنکھیں دی گئی ہیں ایک وہ آنکھ ہے جو دنیوی محبت اور پیار کی آنکھ ہے اور یہ آنکھ کوئی عیب نہیں دیکھتی یعنی جس آدمی سے پیار ہو اس میں کوئی عیب اور نقص نہیں دیکھتی۔یہ اپنے محبوب کا محاسبہ نہیں کرتی۔”لیلة “ کا لفظ گل “ سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں کہ چیز موجود تو ہے مگر آنکھ نے اسے دیکھا نہیں۔انسان کے ساتھ کمزوریاں لگی ہوئی ہیں لیکن پیار کی آنکھ ان کمزوریوں کو دیکھتی نہیں اور دوسری آنکھ ہے دشمنی اور غصے کی آنکھ اور یہ آنکھ عیب ہی عیب دیکھتی ہے کوئی خوبی نہیں دیکھتی۔گویا ایک وہ آنکھ ہے جو خوبی ہی خوبی دیکھتی ہے اور کوئی عیب دیکھتی ہی نہیں اور دوسری وہ آنکھ ہے جو عیب ہی عیب دیکھتی ہے اور کوئی خوبی اسے نظر نہیں آتی۔یہ ہر دو آنکھیں حقیقت کی نگاہ نہیں، حقیقت کو دیکھنے والی نہیں۔یہ دنیا داروں کی نگاہیں ہیں یعنی ایک وہ نگاہ ہے جو عیب نہیں دیکھتی اور محاسبہ نہیں کرسکتی اور ترقیات کے دروازے بند کر دیتی ہے ) اور ایک وہ جوخوبی نہیں دیکھتی اور مایوس ہو جاتی ہے یا مایوس کر دیتی ہے۔انسان کی ترقی کے لیے محاسبہ بڑا ضروری ہے اس کے بغیر خدا تعالیٰ کے بندوں کا ہر قدم پہلے سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔نیز زندگی کے مقاصد کے حصول کے لیے مایوسی سے بچنا بڑا ضروری ہے۔جو شخص عیب ہی عیب دیکھتا ہے اور خوبی نہیں دیکھتا وہ ہلاک ہو گیا۔اور یہ نگاہ دو قسم کی ہوتی ہے، ایک اجتماعی زندگی پر نظر رکھنے والی اور دوسری اپنے نفس پر ، ہر دو کے متعلق میں بات کر رہا ہوں۔یہ ہر دو عیون ، یہ ہر دو آنکھیں یا نگاہیں ، ایک مومن کی نگاہ نہیں ہیں۔مومن کی جو نگاہ ہے وہ حق اور صداقت کو دیکھنے والی نگاہ ہے۔یہ نگاہ جہاں انفرادی یا اجتماعی وجود میں بے شمار خوبیاں دیکھتی ہے وہاں اسی وجود میں جو غفلت یا خامی یا نقص ہوتا ہے اس پر بھی نگاہ ڈالتی ہے۔اسی طرح یہ آنکھ جہاں ہزار ہا عیوب پاتی ہے وہاں خوبیوں کو نظر انداز نہیں کرتی اور ایسے لوگوں کی کوششوں اور دعاؤں کے نتیجہ میں مایوسی کے سامان پیدا نہیں ہوتے۔پس یہ جو حقیقت کو اور صداقت کو دیکھنے والی آنکھ ہوتی ہے جس کو ہم نور ایمان کہتے ہیں یا جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے، یہ آنکھ جہاں ہزار ہا خو بیوں کو دیکھتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور جن پر