خطبات وقف جدید — Page 194
194 حضرت خلیفتہ امسح الثالث میں سے ہر شخص بچہ، جوان اور بوڑھا، مرد اور عورت اپنے بڑھاپے کی طرف حرکت کر رہا ہے مگر جماعتی حیثیت سے ہم ہر سال اپنی جوانی کی طرف اور اپنی کامیابیوں کی طرف حرکت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایک خاص مقصد کے لیے قائم کیا ہے اس درخت کو ایک خاص قسم کے پھلوں کے لیے اور خاص قسم کی برکتوں کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لیے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے کہ نوع انسانی سوائے استثنائی طور پر چند محروموں کے ، اسلام کے اس درخت کے سایہ سے اور اس کے پھلوں سے فائدہ حاصل کرے گی لیکن آج کا زمانہ اس درخت کی نشو نما کا زمانہ ہے۔کچھ خوش نصیب لوگ ہیں جو اس کی شاخوں پر بسیرا کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ مستقبل ان کو خدا کے پیار کے نتیجہ میں اس طرف لے آئے گا اور وہ اس کی شاخوں پر بسیرا کریں گے۔ایک دن نوع انسانی ساری کی ساری اس درخت کی شاخوں پر بسیرا کر رہی ہوگی اور وہ منصوبہ جو آسمانوں پر بنایا گیا ہے اور جس کی بشارت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمتِ محمدیہ کو دی تھی ، وہی منصوبہ کامیاب ہوگا اور دنیا اپنے پیدا کرنے والے رب کی معرفت حاصل کر چکی ہوگی اور اس کی رحمتوں سے حصہ لینے والی ہوگی۔یہ ذمہ داری جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بھی ہیں اور اس کے شکر کے ترانے بھی پڑھنے والے ہیں اور اس کے حضور عاجزانہ طور پر یہ دعا بھی کرنے والے ہیں کہ: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہ اے خدا ! جو قوتیں اور استعداد میں انفرادی اور اجتماعی طور پر تو نے ہمیں دی ہیں ہم حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ اُن سے فائدہ اٹھائیں لیکن ہم یہ احساس رکھتے ہیں کہ جب تک مزید قو تیں اور طاقتیں اجتماعی طور پر ہمیں نہیں ملیں گئی اشاعت اسلام کا وہ عالمگیر منصوبہ جو ہمارے سپرد ہوا ہے اس کو ہم کامیاب نہیں کر سکتے اس لیے خدا تعالیٰ سے استعانت کرتے اور اس کی مدد و نصرت کے ہم ہر آن طالب ہیں اور عاجزانہ دعاؤں میں اس نصرت کے حصول کے لئے لگے ہوئے ہیں اور یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ زندگی کے ہر مرحلہ میں اور اس اجتماعی جدو جہد کے ہر موڑ پر اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی کرنے والا ہو اور ہمیں راہِ ہدایت اور صراط مستقیم دکھانے والا ہو اور جماعت کو اجتماعی طور پر بھی صراط مستقیم پر قائم رکھے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے خود ہمارا ہاتھ پکڑے اور ہمیں شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے لے جاتا چلا جائے۔پس ہمارا ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا سال، برکتوں کا سال اور رحمتوں کا سال ہوتا ہے بلکہ ہمارا ہر سال پہلے سے زیادہ برکتوں، پہلے سے زیادہ رحمتوں اور پہلے سے زیادہ فضلوں کا سال ہوتا ہے اس لیے اس نئے سال کو بھی ہم ان عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ شروع کرتے ہیں کہ کہیں ہماری کوئی کمزوری ان برکتوں کے حصول کے راستے میں حائل نہ ہو جائے بلکہ جیسے پہلے ہوتا چلا آیا ہے اسی طرح اب بھی یہ نیا سال آیا