خطبات وقف جدید — Page 193
193 حضرت خلیفہ امسح الثالث خطبه جمعه فرموده 3 جنوری 1975 ء بیت اقصیٰ ربوه سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور رحمت سے ہمارے جلسہ سالانہ کو بہت بابرکت بنایا اور اسے جماعت احمدیہ کی بشاشت میں زیادتی کا موجب بنایا اور ہمارے فکروں کو دور کرنے کا ذریعہ بنایا اور آسمان سے بارش کے قطروں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ رحمت کے آثار پیدا کیے اور اپنی بے شمار نعمتوں سے ہمیں نوازا۔اس پر خدا تعالیٰ کا جس قدر شکر ادا کریں کم ہے۔شکر ادا کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرے ہر اُس رنگ میں جس میں شکر ادا کرنے کی ذمہ داری بندہ پر ڈالی گئی ہے تو پہلی نعمتوں سے زیادہ نعمتوں کے سامان پیدا نہیں ہوتے بلکہ پہلی نعمتوں کے بھی ضیاع کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ضیاع سے محفوظ رکھے اور مزید نعمتوں کے سامان پیدا کرے اور ان کے شکر کی ہمیں توفیق عطاء کرے۔ایک سال آیا اور گزر گیا۔ایک نئے سال میں ہم داخل ہو رہے ہیں۔مومن کا قدم ہمیشہ آگے پڑتا ہے وہ نہ پیچھے کی طرف دیکھتا ہے اور نہ ایک جگہ پر ٹھہرتا ہے۔پچھلا سال کچھ تلخیاں لے کر آیا مگر بہت سے فضلوں، رحمتوں اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے سامان بھی لے کر آیا۔خدا تعالیٰ کی جو رحمتیں عالمگیر اور بین الاقوامی حیثیت کی تھیں اور بہت سے احمدیوں کی نظر سے بھی اوجھل تھیں، پچھلا سال انہیں نمایاں کر کے ہمارے سامنے لے کر آیا۔پچھلا سال صد سالہ جوبلی تحریک کا پہلا سال تھا۔جماعت احمدیہ نے پہلی بار اشاعت اسلام کے بین الاقوامی منصوبوں کی ابتدا کی تھی۔بعض ملکوں کو اکٹھا کر کے اُن میں تبلیغ اسلام اور اشاعت قرآن کریم کے منصوبے بنائے گئے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں نے انہیں کامیاب بھی کیا۔گویا اشاعت اسلام کی عالمگیر اور بین الاقوامی منصوبے کی ابتدا گذشتہ سال یعنی 1973ء کے جلسہ سالانہ پر ہوئی تھی۔جس کے نتیجہ میں ایک عالمگیر بین الاقوامی مخالفت کی بھی ابتدا ہوئی اور ہونی بھی چاہیے تھی کیونکہ حاسدوں کا حسد ہمیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پیار دیکھنے کے مواقع میسر کرتا ہے۔غرض صد سالہ جوبلی منصوبہ کی ابتدا ہو چکی ہے۔یہ اس منصو بہ کا دوسرا سال ہے۔بالفاظ دیگر ایک اور سال ہے ہماری اور جماعت احمدیہ کی زندگی کا جس میں ہم داخل ہورہے ہیں۔انفرادی حیثیت سے ہم