خطبات وقف جدید — Page 148
148 حضرت خلیفہ المسح الثالث خطبہ جمعہ فرموده 29 ستمبر 1967 ء بیت المبارک ربوہ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جماعت میں یہ احساس زندہ اور بیدار رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کے اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے قیام سے توحید خالص کے قیام اور غلبہ اسلام کی ایک عظیم مہم جاری کی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اس زمانہ میں اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے گا اور صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ کے جوئے تلے دنیا کی ہر قوم کی گردن کو لے آئے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ مخالف کی تدبیریں اگر اس حد تک بھی پہنچ جائیں کہ ان کے نتیجہ میں پہاڑ اپنی جگہوں سے ہلا دیئے جائیں تب بھی وہ کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ نا کام ہی رہیں گے۔کامیابی اللہ تعالیٰ کی اس خادمِ اسلام جماعت کو ہی نصیب ہوگی۔اس مہم کے اجرا سے جماعت پر بڑی اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اس احساس کو زندہ اور بیدار رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی اور ایثار کا نمونہ ہمیں دکھانا پڑتا ہے اور آئندہ نسلوں میں بھی اس احساس کو بیدار رکھنا ضروری ہے کیونکہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے وہ ایک نسل کا کام نہیں۔اس وقت بھی ہماری اکثریت تابعین کی ہے یعنی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا نہیں۔دیکھنے والے تو بہت تھوڑے رہ گئے ہیں لیکن صحابہ حضرت مسیح موعود کو دیکھنے والے کثرت کے ساتھ اس وقت جماعت احمدیہ میں ہیں۔تو احمدیت کے لحاظ سے آئندہ نسل احمدیت کی تیسری نسل ہے اور ابھی ہم کامیابی کی راہوں پر چل رہے ہیں۔اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچے اور نہیں کہا جا سکتا کہ کب ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچیں گے۔میں نے بڑا غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہم پر جو دوسری نسل احمدیت کی اس وقت ہے اور ہماری اگلی نسل پر جو اس وقت بچے ہیں ان دو نسلوں پر قربانیاں دینے کی انتہائی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ہم ایک ایسے زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں جس میں ترقی اسلام کے لئے جو ہم جاری کی گئی ہے وہ اپنے انتہائی نازک دور میں داخل ہو چکی ہے اور ہمیں اور آنے والی نسل کو انتہائی قربانیاں دینی پڑیں گی تب ہمیں اللہ تعالیٰ وہ عظیم فتوحات عطا کرے گا جس کا اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے۔پس ضروری کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں بھی اس احساس کو زندہ کریں اور زندہ رکھیں کہ عظیم فتوحات کے دروازے اللہ تعالیٰ نے