خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 147 of 682

خطبات وقف جدید — Page 147

147 حضرت خلیفہ امسیح الثالث کرے گا۔جب آپ ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے تو پھر آپ ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور بچوں کے دلوں میں دین کی راہ میں قربانیاں دینے کا شوق پیدا کریں۔ہماری جماعت میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر بچہ ٹھتی دے مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر بچہ جتنا دے سکتا ہے ضرور دے اگر وہ دھیلا دے سکتا ہے،اگر وہ ایک پیسہ دے سکتا ہے اگر وہ ایک آنہ دے سکتا ہے دوقی دے سکتا ہے، چوقی دے سکتا ہے تو اتنا اس کو ضرور دینا چاہیے ورنہ آج اس کے دل میں اسلام کی محبت کا وہ بیچ نہیں بویا جائے گا جو بڑے ہوکر درخت بنتا اور شیریں پھل لاتا ہے۔پس اپنی نسلوں پر رحم کرو اور اپنے بچوں سے اس محبت کا اظہار کرو جو ایک مسلمان ماں اپنے بچے سے کرتی ہے اور اس پیار کا اس سے سلوک کرو جو ایک مسلمان باپ اپنے بچے سے کرتا ہے اور ان بچوں کے دل میں سلسلہ کے لئے قربانیوں کا شوق پیدا کرو اور ان کے دل میں یہ احساس پیدا کرو کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے انسان کو بہر حال جدو جہد اور کوشش کرنی پڑتی ہے اس کے بغیر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوتی۔اگر انسان خدا کی راہ میں قربانیاں نہ دے تو اس کے نتیجہ میں شیطان تو خوش ہو سکتا ہے مگر خدا خوش نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور ان کے نباہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔الفضل 9 جولائی 1967 ، صفحہ 2 ،3) نوٹ: ایک روپیہ کے 16 آنے ہوتے تھے اور ایک آنے کے 4 پیسے، ایک پیسہ کے دودھیلے، دو آنے کی دوقی 4 آنے کی چوٹی اور 8 آنے کی اٹھتی۔