خطبات وقف جدید — Page 149
149 حضرت خلیفہ امسح الثالث ان کیلئے کھول رکھے ہیں اور ان دروازوں میں داخل ہونے کیلئے عظیم قربانیاں انہیں دینی پڑیں گی اور ان سے ہم ایسے کام کرواتے رہیں کہ ان کو ہر آن اور ہر وقت یہ احساس رہے کہ غلبہ اسلام کی جو مہم اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ہم نے بھی کچھ کنٹری بیوٹ (Contribute) کیا ہے ہم نے بھی اس کے لئے کچھ قربانیاں دی ہیں۔ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ویسے ہی امیدوار ہیں جیسا کہ ہمارے بڑے ہیں اس کے لئے میں نے علاوہ اور تدابیر کے جو ذہن میں آتی رہیں یا جو پہلے سے ہماری جماعت میں جاری ہیں یہ تحریک کی تھی کہ ہمارے بچے وقف جدید کا مالی بوجھ اٹھا ئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے سارے بچے اور وہ ماں باپ جن کا ان بچوں سے تعلق ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس بات کو اچھی طرح جانے لگیں کہ جب تک بچے کو عملی تربیت نہیں دی جائے گی اللہ تعالیٰ کی فوج کا وہ سپاہی نہیں بن سکے گا اگر وہ دین کیلئے ابھی سے ان سے قربانیاں لیں تو یہ نسل اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح تربیت یافتہ ہوگی اور جب ان کے کندھوں پر جماعت کے کاموں کا بوجھ پڑے گا تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور ان کو نباہنے کیلئے کوشاں رہیں گے۔میرے دل میں یہ احساس ہے کہ جماعت نے بحیثیت مجموعی اس کی طرف وہ توجہ نہیں دی جو اس کو دینی چاہئے۔بڑے نیک نمونے بھی ہیں ہماری جماعت میں۔ایسے بچے جن کو تحریک نہیں کی گئی اور پھر بھی ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہمارے بڑوں پہ ہی نہیں ہم پر بھی قربانیوں کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور وہ قربانیاں دیتے ہیں۔افریقہ کے ایک بچے کی مثال میں اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔افریقہ میں ہمارے ایک احمدی بھائی ہیں لئیق احمد ان کا نام ہے بڑے مخلص دعا گو ہیں اور ہر وقت ان کو یہ احساس رہتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کر رہا ہے ہمیں اپنی راہ میں قربانیاں دینے کی توفیق عطا کرتا ہے۔ہمارے بچے بھی اس کے فضلوں کے وارث بنیں اور اس کی راہ میں قربانیاں دیں۔چند دن ہوئے انہوں نے مجھے خط لکھا جو کل ہی مجھے ملا ہے۔انہوں نے اپنے بچوں سے کہا ( ایک بچہ بہت چھوٹا ہے ) بڑے بچے جو ہیں ان کو انہوں نے کہا کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قصیدہ تم حفظ کر لو جو نعتیہ قصیدہ ہے يَا عَيْنَ فَيُضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَانِ يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ كَالظَّـمان تو میں تمہیں پچاس شلنگ انعام دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص اس قصیدہ کو زبانی یاد کرے اور دہراتا رہے اللہ تعالیٰ اس کا حافظہ تیز کر دیتا ہے تو بچوں کو یہ قصیدہ حفظ کروانے