خطبات وقف جدید — Page 146
کی کوشش کریں۔146 حضرت خلیفہ مسیح الثالث میں نے یہ کہا تھا کہ وقف جدید میں اگر ہمارے بچے دلچسپی لینے لگیں اور صحیح معنی میں دلچسپی لینے لگیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وقف جدید کا سارا مالی بار ہمارے بچے بڑی آسانی سے اپنے کندھوں پر اُٹھا سکتے ہیں لیکن بچے اپنی ناسمجھی کی وجہ سے کیونکہ ان میں سے بہتوں کی عمر ہی ایسی ہے جو اس ذمہ داری کو سمجھ ہی نہیں سکتے لیکن بہت سی مائیں اپنی جہالت کی وجہ سے بچوں کو اس طرف متوجہ نہیں کرر ہیں۔لجنہ کی یہ رپورٹ ہے کہ بہت سی مائیں ربوہ میں بھی ایسی پائی جاتی ہیں جن کو احساس ہی نہیں ہے کہ ان کے بچوں کو وقف جدید کے مالی بار کے اٹھانے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔جو بچہ روپیہ یا ڈیڑھ روپیہ یا اٹھتی یا چوٹی گندی چیزوں کے کھانے پر صرف کرتا اور صحت کو خطرہ میں ڈالتا ہے اگر اس کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ یہ چند آنے تم وقف جدید میں دو اور اس طرح اپنی روحانی صحت کے بنانے کی کوشش کرو اور وقف جدید کی اہمیت ان پر واضح کی جائے اور احمدی بچے کی جو شان ہے اور اللہ تعالیٰ اسے جس مقام پر دیکھنا چاہتا ہے وہ شان اور وہ مقام اسے اچھی طرح سمجھایا جائے اس زبان میں جس زبان میں کہ بچہ سمجھ سکتا ہے۔چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی اگر اس کی زبان میں بات کی جائے تو بڑی گہری باتوں کو بھی سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ اس کی زبان میں بات کی جائے سادہ طریقہ سے اس کو سمجھایا جائے تو وہ سمجھ سکتا ہے بلکہ بعض بوڑھوں سے بعض دفعہ بعض بچے زیادہ جلدی سمجھ جاتے ہیں اور زیادہ شوق سے اپنی ذمہ داری کو نباہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن نہ مائیں اس طرف متوجہ ہیں اور نہ باپوں کو کچھ خیال ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو نبا ہیں۔اس وقت تک میں سمجھتا ہوں کہ جو ذمہ داری میں نے وقف جدید کے سلسلہ میں احمدی بچوں پر ڈالی تھی جماعت کے احمدی بچوں میں سے ابھی بیس (20) فیصدی بمشکل ایسے ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہے اور اس کی ادائیگی کی کوشش کر رہے ہیں باقی استی (80) فیصدی بچے جماعت کے ایسے ہیں کہ جو اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھ رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں اس کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کے اسی (80) فیصدی باپ اور جماعت کی اسی (80) فیصدی مائیں ایسی ہیں جنہیں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے لئے خدا کی رضا کی جنت کو کس طرح پیدا کرنا ہے۔کیا آپ اس بات کو پسند کریں گی اے احمدی بہنو! اور کیا آپ اس بات کو پسند کریں گے اے احمدی بھائیو! کہ آپ کو تو خدا کی رضا کی جنت نصیب ہو جائے لیکن آپ کے بچے اس جنت کے دروازے سے دھتکارے جائیں اور دوزخ کی طرف ان کو بھیج دیا جائے یقیناً آپ میں سے کوئی بھی اس بات کو پسند نہیں