خطبات وقف جدید — Page 139
139 حضرت خلیق اصبح الثالث سامنے پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ اعمال میں کوتاہی نہ کرو اور نیک اعمال بجالانے میں غفلت نہ برتو ، جس حد تک ممکن ہو سکے دن اور رات اعمالِ صالحہ بجالاتے ہوئے اپنی زندگی کی گھڑیوں کو گذار ولیکن اس کے ساتھ ہی یہ نہ سمجھو کہ تم اپنے عمل کے نتیجہ میں کچھ بن گئے یا تمہارے عمل کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ تم سے خوش ہو جائے گا اور راضی ہو جائے گا کیونکہ تم نہیں کہہ سکتے کہ تمہارے اعمال میں ریاء کے ، تمہارے اعمال میں تکبر کے، تمہارے اعمال میں خود نمائی اور خود پسندی کے ، تمہارے اعمال میں دوسروں کے لئے حقارت کے ایسے جراثیم نہیں پائے جاتے جو خدا کو ناراض کر دیتے ہیں، پس عمل کر وہ عمل کرو اور عمل کرو۔لیکن سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھو کہ تم خالی ہاتھ اور تہی دست ہو جب تک خدا کی مغفرت ، جب تک خدا کی رحمت تمہیں حاصل نہ ہو تم خدا کے قہر اور اس کے غضب اور اس کی لعنت سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔تو میں آج اپنے دوستوں سے کہوں گا کہ اے میرے پیارے بھائیو ! یہ مہینہ رحمتوں کے لٹانے کا ہے۔خدا آسمان سے زمین پر اس لئے آیا ہے کہ اس کے بندے اس کے سامنے جھولیاں پھیلائیں اور اس کی رحمت کو ، اس کی مغفرت کو ، اس کے فضلوں کو ، اس کی برکتوں کو اور اس کی رضا کو پائیں، اس کی خوشنودی حاصل کریں، اس کے نور سے اپنے سینہ و دل کو منور کریں پس اس مہینہ سے جتنا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی جتنی رضا تم پا سکتے ہو اس کے پانے کی کوشش کرو اپنے دنوں کو بھی اپنی راتوں کو بھی ایسے دن اور ایسی راتیں بناؤ کہ جو دن اور جو راتیں تمہارے خدا کو محبوب بن جائیں پھر عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے رہو کہ اے خدا ان کاموں کی ہمیں توفیق دے جن کے نتیجہ میں تو خوش ہو جائے اور ان کاموں سے ہمیں بچا جن کاموں کے نتیجہ میں تو ہم سے ناراض ہوتا ہے۔شیطان تیرے در کا کتا ہے تو خود اس کوز نخجیر ڈال کہ وہ ہم پر حملہ آور نہ ہو اور ہمیں نقصان نہ پہنچائے کہ اپنی طاقت اور اپنے زور کے ساتھ ہم اس کے حملوں سے اپنے کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کے بہت سے دروازوں میں سے رحمت کا ایک دروازہ جو ہم پرکھ گیا ہے وہ وقف جدید کا دروازہ ہے اس نظام کے ذریعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ہمارے لئے نیکیاں کرنے اور رحمتیں کمانے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔رکھولا وقف جدید کا سال یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے آج تمیں دسمبر ہے کل کا ایک دن بیچ میں رہ گیا ہے اس طرح نیا سال پرسوں شروع ہو گا ہر نیا سال جو چڑھتا ہے وہ کچھ نئی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے اور کچھ نئی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے یا قربانیوں میں کچھ زیادتی کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کے مقابلہ میں خدا کی نئی رحمتوں کے دروازے بھی وہ کھولتا ہے۔ہر تحریک جو اعلائے کلمۃ اللہ اور غلبہ اسلام کے لئے جماعت احمدیہ