خطبات وقف جدید — Page 140
140 حضرت خلیفہ المسح الثالث میں جاری کی گئی ہے وہ اس آیت کے ماتحت جاری کی گئی ہے کہ نببِّي عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ کہ کسی طرح افراد جماعت اور ہماری آئندہ نسلیں بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت کو حاصل کرنے والی بہنیں پس ہمیں چاہئے کہ اپنی طرف سے زیادہ سے زیادہ جد و جہد یا اجتہاد یا مجاہدہ ہم کریں تا کہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکیں اور پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک مومن بندہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو تہی دست پا تا اور تہی دست سمجھتا اور یقین رکھتا ہے۔وقف جدید کی تنظیم جماعت کی تربیت کے لئے بڑی اہم تنظیم ہے۔اس کی اہمیت کو پوری طرح ابھی تک جماعت نے نہیں سمجھا کیونکہ اگر وہ سمجھتے تو اس سے وہ بے اعتنائی نہ برتتے جو آج برت رہے ہیں وقف جدید کو جاری ہوئے آٹھ نو سال گذر چکے ہیں اور ابھی تک اس کا چندہ ڈیڑھ لاکھ تک بھی نہیں پہنچا۔حالانکہ تربیت کے جو کام اس تنظیم کے سپرد کئے گئے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کاموں کے کرنے کے لئے ڈیڑھ لاکھ تو کوئی چیز ہی نہیں ہے۔پھر اس کے لئے جس تعداد میں واقفین آئے ہیں وہ تعداد بھی (جیسا کہ میں نے پہلے بھی اپنے ایک خطبہ میں بتایا تھا ) نا کافی ہے۔میں نے کہا تھا کہ آئندہ سال جماعت کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کم از کم ایک سو واقف وقف جدید کے انتظام میں پیش کرے۔مجھے بتایا گیا ہے اور رالفضل میں بھی بعض نوٹ چھپے ہیں کہ ابھی تک بہت کم نو جوانوں نے یا جوان دل ادھیڑ عمر کے احمدیوں نے اس کلاس کے لئے وقف جدید میں نام پیش کئے ہیں جو یکم جنوری سے یا جنوری کے پہلے ہفتہ میں شروع ہو رہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس طرف متوجہ کرنے کے لئے کہ وقف جدید کی تنظیم بڑی اہم ہے اور اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور جماعت کو بھی متوجہ کرنا چاہئے میرے دل میں یہ القا کیا کہ میں وقف عارضی کی تحریک جاری کروں کیونکہ وقف عارضی کے جواچھے اور خوشکن نتائج نکل رہے ہیں اور جو فوائد ہم اس سے حاصل کر رہے ہیں ان میں سے ایک فائدہ جو ہمیں وقف عارضی سے حاصل ہوا ، وہ یہ ہے کہ جو رپورٹیں سینکڑوں جماعتوں میں وقف عارضی کے واقفین نے کام کرنے کے بعد ہمیں دیں ان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جماعتوں میں وقف جدید کے معلمین کی اشد ضرورت ہے۔اخبارا تو جو چیز چھپی ہوئی تھی اور وقف جدید کی جو اہمیت ہماری نظروں سے اوجھل تھی وہ وقف عارضی کے واقفین کی رپورٹوں سے ہماری آنکھوں کے سامنے آگئی اور ہم میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم سے ایک بڑا گناہ سرزد ہوا ہے کہ ہم نے اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وقف جدید کے مطالبات پورا کرنے میں اتنی کوشش اور محنت نہیں کی جتنی ہمیں کرنی چاہئے تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو مقصد وقف جدید کے قیام کا