خطبات وقف جدید — Page 138
138 حضرت خلیفه لمسیح الثالث جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں آسمانی رحمتوں کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور آسمانی غضب اور آسمانی ناراضگیوں اور آسمانی لعنتوں کے دروازے بھیڑ دئے جاتے ہیں۔اگر خدا کے بندے خدا کی خاطر خدا کے بتائے ہوئے طریق کو اختیار کریں تو وہ ہنسی خوشی بشاشت کے ساتھ چھلانگیں لگاتے ہوئے خدا کی جنت میں داخل ہو سکتے ہیں لیکن اگر وہ ایسا نہ کریں اور خود اپنے ہاتھوں سے جہنم کے ان دروازوں کو کھولیں جن کو خدا تعالیٰ نے بھیڑ دیا تھا تو پھر ان کی بد قسمتی ہے کہ وہ مغفرت اور رحمت کی بجائے خدا کی لعنت کو اختیار کرتے ہیں۔نبی کریم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صرف بھوکا رہنے سے خدا خوش نہیں ہوتا، نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صرف راتوں کو جاگنے سے صرف قیام لیل یا احیاء لیل سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔بہت سے وہ بھی ہیں جو بھوکے رہتے ہیں مگر روزے کا ثواب حاصل نہیں کر سکتے ، بہت سے ایسے بھی ہیں جو راتوں کو جاگتے ہیں مگر ان پر ملائکہ کا نزول نہیں ہوتا جو نزول ان بندوں پر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے اخلاص کے ساتھ ، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ راتوں کو جاگ کر اس کے حضور جھک کر اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں اور سب کچھ کرنے کے بعد بھی اسے وہ یہی کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تہی دست ہیں کیونکہ جو کچھ ہم تیرے سامنے پیش کر رہے ہیں اس کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کے اندر کوئی ایسا کیڑا تو نہیں جو تیری ناراضگی کا موجب ہو ، پس بجائے اس کے کہ ہم یہ کہیں کہ ہم تیرے حضور اپنے اس عمل کا تحفہ پیش کرتے ہیں ہم آج تجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جو کچھ پیش کر رہے ہیں اسے نظر انداز کر دے۔ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، ہمیں اپنی مغفرت اور اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لے ہمیں نہ کسی عمل کا دعویٰ ، نہ ہم اس کا انعام تجھ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہم یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ تو نے اپنی ذات کو غفور بھی کہا ہے اور رحیم بھی کہا ہے پس تجھے تیرے غفور ہونے کا واسطہ، تجھے تیرے رحیم ہونے کا واسطہ، ہمیں اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے چھپالے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز کہ اگر تو ہمیں محض اپنے فضل سے اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے اگر تو اپنی صفت رحیم کو جوش میں لا کر ہم پر اپنی رحمت کا سایہ کر دے تو یہ ناقص عمل ہم نے کیا کرنے ہیں اور ان کا ہمیں کیا فائدہ ؟ عمل تو ہم نے اس لئے کئے تھے کہ ہم تیری خوشنودی ، تیری رضا کو حاصل کر لیں جب تیری مغفرت کے ذریعہ جب تیری رحمت کے ذریعہ وہ ہمیں مل گئی تو ہم یہ کیوں کہیں کہ اے خدا ہم نے کچھ نیک کام کئے تھے ان کی جزاء ہمیں دے۔اس کے ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص خدا کی راہ میں اعمالِ صالحہ بجالانے سے گریز کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں بغیر کسی عمل کے اس کی خوشنودی کو حاصل کر لوں گا وہ بھی غلطی پر ہے ، وہ بھی خدا کو ناراض کرنے والا ہے تو درمیانہ راستہ جو نبی کریم ﷺ نے ہمارے