خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 5 of 682

خطبات وقف جدید — Page 5

5 حضرت مصلح موعود ہے مولا نا محمد قاسم صاحب کی اولاد پھر بھی دوسروں سے بہت بہتر ہے۔میں جب دیو بند دیکھنے گیا تو مولویوں نے ہماری بڑی مخالفت کی مگر مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے بیٹے یا پوتے جو ان دنوں دیو بند کے منتظم تھے انھوں نے میرا بڑا ادب کیا اور مدرسہ والوں کو حکم دیا کہ جب یہ لوگ آئیں تو ان سے اعزاز کے ساتھ پیش آئیں بعد میں انھوں نے میری دعوت بھی کی لیکن میں پیچش کی وجہ سے اس دعوت میں شریک نہ ہوسکا۔میرے ساتھ اس سفر میں مولوی سید سرور شاہ صاحب ، حافظ روشن علی صاحب اور قاضی سید امیرحسین صاحب بھی تھے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے اندرا بھی مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی والی شرافت باقی تھی اگر ان میں وہ شرافت نہ ہوتی تو ہمارے جانے پر جیسے اور مولویوں نے مظاہرے کئے تھے وہ بھی مظاہرہ کرتے لیکن انھوں نے مظاہرہ نہیں کیا اور بڑے ادب سے پیش آئے اور بڑی محبت کے ساتھ انھوں نے ہماری دعوت کی اور استقبال کیا بعد میں انھوں نے مولوی عبید اللہ صاحب سندھی کو ہمارے پاس بھجوایا اور معذرت کی کہ مجھے پتہ لگا ہے کہ بعض مولویوں نے آپ سے گستاخانہ کلام کیا ہے مجھے اس کا بڑا افسوس ہے میں انھیں ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ ایسا نہ کیا کریں لیکن وہ سمجھتے نہیں۔اس وقت مولوی عبید اللہ صاحب سندھی جو بڑے متمدن اور مہذب آدمی تھے ، ان کے مشیر کار تھے اور وہ مولوی صاحب کا بڑا لحاظ کرتے تھے اور انھیں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کی باتیں مانتے تھے۔لیکن اصل بات یہی ہے کہ ماننے والے کے اندر جب تک اطاعت کا مادہ نہ ہو تو چاہے اسے کوئی کتنا بڑا آدمی کیوں نہ مل جائے وہ مفید نہیں ہوسکتا۔مولوی محمد قاسم صاحب کے یہ بیٹے یا پوتے جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ان کا نام غالبا محمد یا احمد تھا۔مولوی عبید اللہ صاحب سندھی انھیں ہمیشہ صحیح مشورہ دیتے رہتے تھے اور ان سے ایسا کام لیتے تھے جس سے اسلامی اخلاق صحیح طور پر ظاہر ہوں چنانچہ اس کا یہ نتیجہ تھا کہ انھوں نے میرا بڑا ادب کیا اور دعوت کی اور بعد میں مولوی عبید اللہ صاحب سندھی کو میرے پاس بھیج کر معذرت کی کہ بعض مولویوں نے آپ کے ساتھ گستاخانہ کلام کیا ہے جس کا مجھے افسوس ہے۔آپ اس کی پروانہ کریں۔تو ہماری جماعت کے لئے اس ملک میں بھی ابھی صوفیاء کے طریق پر کام کرنے کا موقعہ ہے جیسا کہ دیو بند کے قیام کے زمانہ میں ظاہری آبادی تو بہت تھی لیکن روحانی آبادی کم ہوگئی تھی روحانی آبادی کی کمی کی وجہ سے مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے دیکھ لیا تھا کہ یہاں اب روحانی نسل جاری کرنی چاہئے تا کہ یہ علاقہ اسلام اور روحانیت کے نور سے منور ہو جائے۔چنا نچہ انھوں نے بڑا کام کیا جیسے انکے پیر حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے بڑا کام کیا تھا اور جیسے ان کے ساتھی حضرت اسمعیل صاحب شہید کے بزرگ اعلیٰ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے بڑا کام کیا تھا۔یہ سارے کے سارے لوگ اپنے زمانہ کے لئے اسوۂ حسنہ ہیں۔درحقیقت ہر زمانہ کا فرستادہ