خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 4 of 682

خطبات وقف جدید — Page 4

4 حضرت مصلح موعود تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔وہ مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے، اور آج بھی اس میں پشتوں کی ضرورت ہے، سہر وردیوں کی ضرورت ہے اور نقشبندیوں کی ضرورت ہے۔اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی ،حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج ” جیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک روحانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ ویران ہو جائے گا جتنا مکہ مکرمہ کسی زمانہ میں آبادی کے لحاظ سے ویران تھا۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں وہ صدر انجمن احمد یہ یا تحریک جدید کے ملازم نہ ہوں بلکہ اپنے گزارہ کے لئے وہ طریق اختیار کریں جو میں انھیں بتاؤں گا۔اور اسی طرح آہستہ آہستہ دنیا میں نئی آبادیاں قائم کریں اور طریق آبادی کا یہ ہوگا کہ وہ حقیقی طور پر تو نہیں ہاں معنوی طور پر ربوہ اور قادیان کی محبت اپنے دلوں سے نکال دیں اور باہر جا کرنے رہوے اور نئے قادیان بسائیں۔ابھی اس ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں میلوں میل تک کوئی بڑا قصبہ نہیں وہ جا کر کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت وہاں تبلیغ بھی کریں اور لوگوں کو تعلیم بھی دیں، لوگوں کو قرآنِ کریم اور حدیث پڑھائیں اور اپنے شاگر د تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں اس طرح سارے ملک میں وہ زمانہ دوبارہ آجائے گا جو پرانے صوفیاء کے زمانہ میں تھا۔دیکھو ہمت والے لوگوں نے پچھلے زمانے میں بھی کوئی کمی نہیں کی۔یہ دیو بند جو ہے یہ ایسے ہی لوگوں کا قائم کیا ہوا ہے۔مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے حضرت سید احمد صاحب بریلوی کی ہدایت کے ماتحت یہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور آج سارا ہندوستان ان کے علم سے منور ہو رہا ہے۔حالانکہ وہ زمانہ حضرت معین الدین صاحب چشتی کے زمانہ سے کئی سو سال بعد کا تھا لیکن پھر بھی روحانی لحاظ سے وہ اس سے کم نہیں تھا جبکہ ان کے زمانہ میں اسلام ہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں تھا اس زمانہ میں بھی وہ ہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں ہی تھا۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے اپنے شاگردوں کو ملک کے مختلف حصوں میں بھجوایا جن میں سے ایک ندوہ کی طرف بھی آیا پھر ان کے ساتھ اور لوگ مل گئے اور ان سب نے اس ملک میں دین اور اسلام کی بنیاد میں مضبوط کیں۔اب چاہے ان کی اولاد خراب ہوگئی ہے اللہ تعالیٰ ہماری اولادوں کو بچائے کہ وہ خراب نہ ہوں ) لیکن ان کی اولادوں کی خرابی ان کے اختیار میں نہیں تھی انھوں نے تو جس حد تک ہو سکا دین کی خدمت کی بلکہ جہاں تک صلمی اولا د کا تعلق