خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد ۹ 69 خطبه جمعه ۲ار فروری ۱۹۹۰ء اور یہاں اس آیت کریمہ میں اسی زمانے کے اخبار کا ذکر ہے جو تقویٰ کے حسن سے تو عاری ہوں لیکن اپنی ظاہری زیبائش کے ذریعے اپنے آپ کو خوبصورت کر کے دکھاتے ہوں تاکہ لوگ دھو کے میں مبتلا ہوں اور ان کو خدا کے بہت ہی عظیم الشان بندے تصور کرنے لگیں۔اس کے برعکس قرآن کریم نے جو دوسرا لفظ استعمال فرمایا ہے، وہ رھبان ہے یہ بھی مذہبی راہنماؤں کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔لیکن معنوں میں بالکل دوسرے کنارے پر کھڑا ہے۔احبار ایسے اشخاص کو کہا جاتا ہے جو بن ٹھن کر اور بہت ہی تیار ہوکر ، اس نیت سے تیار ہو کر لوگ ان کی طرف مائل ہوں، دنیا کے سامنے نکلیں اور رہبان ان کو کہتے ہیں جن کے چہرے پر خوف ہو، جو غمزدہ اور فکروں میں مبتلا دکھائی دیں اور خوفزدہ ہوں۔اس وجہ سے فقیروں کے لئے جو خدا کی راہ کے فقیر بن جاتے ہیں ان کے لئے اچھے معنوں میں رھبان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اور قرآن کریم نے بھی اور بھی کئی جگہ اسی مادے کو استعمال فرمایا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی خاطر ، خدا کے خوف سے غربت اختیار کرنے والے لوگ دنیا کو حج دینے والے لوگ وہ جو اپنے آپ کو غربت کا لباس پہنا لیں ایسی غربت جو خوف کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور خدا کے خوف کی خاطر وہ دنیا سے الگ ہو جائیں۔پس یہ بھی بہت ہی اچھا مضمون ہے لیکن اگر اس کے برعکس بظاہر فقیر نظر آنے والے لوگ خدا کے خوف کی وجہ سے فقیر نہ بنے ہوں بلکہ لوگوں میں اپنی عزت کروانے کے لئے فقیر بنے ہوں۔ان کے انکسار میں بھی ایک تکبر پایا جاتا ہو اور ان کی غربت میں ایک دھوکہ ہو یعنی غربت اس لئے ، گندے کپڑے اس لئے پراگندہ حال اس لئے کہ لوگ سمجھیں کہ یہ خدا کی خاطر اتنا پہنچا ہوا انسان ہے کہ اس کا حق ہے کہ ہم اس کو تحفے تحائف دیں اور پھر اس فقیری کے نتیجے میں وہ لوگوں کو دھو کے بھی دیتے ہوں اور باطل کے ذریعے مال کھانے والے لوگ ہوں۔ایسے فقیر بھی آج دنیا میں عام ہیں اور ایسے احبار بھی آج دنیا میں عام ہیں۔ان دونوں گروہوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان کے علاوہ بھی ایسے لوگ ہیں الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّة وہ ایسے ہی مالدار ہوتے ہیں اور ہر طرح جس طرح بھی ان کا بس چلے وہ رو پیدا کٹھا کرتے رہتے ہیں۔چاندی اور سونے کی مقداریں بڑھاتے ہیں لیکن خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔پس یہ دونوں گروہ ایسے ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی بجائے مال و دولت اکٹھی کرنے والے ہیں اور پہلا گروہ زیادہ