خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 68

خطبات طاہر جلد ۹ 68 خطبه جمعه ۲ فروری ۱۹۹۰ء کی راہوں سے روکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف آنے سے لوگوں کو روکتے ہیں۔وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّة اىی طرح وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں۔وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ اور اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں۔فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابِ الی ان کو ایک درد ناک عذاب کی خبر دے۔يَوْمَ يُحْيِي عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ جس دن ان لوگوں پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔فَتُكُوى بِهَا جِبَاهُهُمْ اور ان کی پیشانیوں کو داغا جائے گا اور ان کے پہلوؤں کو داغا جائے گا اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔اس چیز سے جو وہ جمع کرتے رہے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہ پائی۔هذَا مَا كَنَزُتُم وہ وہ کچھ ہے جو تم نے جمع کیا تھا۔لِاَنْفُسِكُمْ اپنی جانوں کے لئے۔فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ پر اب اس جمع شدہ کو چکھ کے دیکھو۔اس کا مزہ چکھو کہ وہ کیا چیز تھی۔ان آیات میں وہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔جو ان مذہبی قوموں پر صادق آتا ہے جو زمانہ نبوی سے دور جا چکی ہوں اور انحطاط پذیر ہو چکی ہوں۔یہاں لفظ أَحْبَارِ اور رُهْبَانِ کا ترجمہ میں نے پیر فقیر کیا ہے۔لیکن یہ دونوں الفاظ مزید وضاحت کے محتاج ہیں اخبارِ ، خبر سے نکلا ہے یا حبر سے۔اس کا مطلب یہ ہے۔رونق اور خوبصورتی اور وہ لوگ جو صاحب رونق اور صاحب جمال ہوں ان کو اخبار کہا جاتا ہے۔قرآن کریم نے ان الفاظ کو اچھے معنوں میں بھی استعمال فرمایا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ایسے نیک لوگ جن کی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حسن اور جمال پیدا ہو چکا ہو۔اور ان کے چہروں پر رونق آگئی ہو جو خدا تعالیٰ کی محبت کے نور سے عطا ہوتی ہے ایسے لوگ اخبار کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔چنانچہ ان اچھے معنوں میں بھی قرآن کریم نے اس لفظ کو استعمال فرمایا ہے۔برے معنوں میں یہ لفظ ظاہری حسن و جمال سے تعلق رکھتا ہے یعنی ایسے لوگ جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے جبہ و دستار پہنتے ہیں اور خوب سج دھج کر باہر نکلتے ہیں۔کندھوں پر رومال ڈالتے ہیں۔رنگین کپڑے پہنتے ہیں اور غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ دیکھنے والے سمجھیں کہ یہ بہت ہی کوئی خدا کے عظیم بندے ہیں۔جن کی رونق اور جن کا جمال ان کی نیکی کی علامت ہے۔ایسے لوگ بگڑے ہوئے زمانوں کی پیداوار ہوا کرتے ہیں۔