خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 70

خطبات طاہر جلد ۹ 70 70 خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۹۰ء بد بخت ہے کیونکہ وہ خدا کے نام پر اور خدا کی محبت کے دکھاوے کے نتیجے میں پیسے اکٹھے کرتا ہے اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہیں پاتا۔ایسے لوگ آج کے زمانے میں بہت کثرت سے ملتے ہیں۔آپ نے بارہا ایسے لوگوں کو دیکھا بھی ہوگا۔ان کی تصویر میں بھی اخباروں میں چھپتی ہوئی دیکھی ہوں گی جو آج بعض مذہبی قوموں کے احبار بنے ہوئے ہیں۔اور اسی طرح ان فقیروں کے واقعات بھی آپ پڑھتے ہوں گے جو فقیر بن کے دنیا کو لوٹنے کے لئے نکلتے ہیں اور سارا دجل ہی دجل ہوتا ہے۔اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کا حال ہوتا ہے جو زمانہ نبوی کے قریب ہوں۔خواہ سالوں کے لحاظ سے قریب ہوں یا معنوی لحاظ سے قریب ہوں۔خواہ اولین میں شمار ہوتے ہوں یا ان آخرین میں جن کے متعلق قرآن کریم نے یہ خوشخبری دی تھی کہ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعہ: ۴) ابھی تک ان اولین سے نہیں ملے لیکن مل جائیں گے۔پس قرب خواہ زمانی ہو، خواہ روحانی اور معنوی۔اس زمانے میں اس نظارے کے بالکل برعکس نظارہ دکھائی دیتا ہے۔جو قرآن کریم نے ان آیات میں کھینچا ہے۔اس زمانے میں وہ لوگ جو خدا کا صحیح تقویٰ اختیار کرتے ہیں، ان کے چہروں پر جونور اور رونق آتی ہے وہ اللہ کے تقویٰ کی وجہ سے آتی ہے اور وہ کبھی اس نیت سے بن بج کر نہیں نکلتے کہ لوگوں کو دھوکا دیں اور اپنی عظمت کے اظہار کے لئے اچھے کپڑے پہنیں۔ان لوگوں کا اوڑھنا بچھونا پہنا، جو کچھ بھی ہے اس کا ریا کاری سے کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا۔نہ ان کا اچھا حال ریا کاری کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ ان کا برا حال ریا کاری کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ ان کے امیر ریا کار ہوتے ہیں نہ ان کے غریب ریا کار ہوتے ہیں۔پس مذہبی دنیا میں بھی وہ صاحب حیثیت ہوں تب بھی وہ ریا کاری کی خاطر کوئی بھیں نہیں اوڑھتے ، کوئی لباس نہیں اوڑھتے ، کوئی دکھاوے نہیں کرتے اور دھوکا دینے کے خاطر مصنوعی زینتیں نہیں اختیار کرتے۔اسی طرح غریب بن کر لوگوں کو اس لئے نہیں دکھاتے کہ لوگ سمجھیں کہ یہ کوئی بہت ہی پہنچا ہوا درویش ہے اور دیکھو اس کا حال کیسا ہے کپڑے گندے برا حال ، یقیناً کوئی بہت ہی خدا رسیدہ انسان ہوگا۔جب ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں تو قوموں کے مذاق بگڑ جاتے ہیں اور قوموں کو نیکی اور بدی کی پہچان نہیں رہتی۔ایسی تو میں آپ دیکھیں گے کہ ہمیشہ دوطرف دوڑ رہی ہوتی ہیں یا تو ایسے احبار کی طرف جن کا دکھاوا سب سے زیادہ ہو۔جن کا پروپیگینڈ سب سے زیادہ ہو۔وہ