خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد ۹ 534 خطبه جمعه ۴ ار ستمبر ۱۹۹۰ء بڑے خطرے کے وقت نہ صرف یہ کہ جھوٹ سے کام نہیں لیا بلکہ سچائی بڑی قوت کے ساتھ دل سے پھوٹی ہے۔ایک موقعہ پر حضرت اقدس محمد مصطفی علے ایک غزوے میں شریک تھے اور دو پہر کو قافلہ آرام کرنے کے لئے مختلف درختوں کی چھاؤں ڈھونڈتا ہوا الگ الگ پھیل گیا۔آنحضرت علیہ بھی ایک درخت کی چھاؤں میں تنہا لیٹے ہوئے آرام فرمارہے تھے ،اتنے میں ایک دشمن کا وہاں سے گزر ہوا۔اس نے تلوار سونتی اور آنحضرت ﷺ کو جگا کر کہا، آپ کا نام لے کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب یہاں اور کوئی نہیں ہے، تیرا کوئی ساتھی بچانے والا نہیں ہے تو نہتا ہے اور لیٹا ہوا ہے اور میں یہ تلوار سونت کے تیرے سر پر کھڑا ہوں۔اب بتا تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے آنحضرت ﷺ نے بڑے اطمینان سے اسی طرح لیٹے ہوئے فرمایا میر اخدا۔اس صداقت میں ایسا رعب تھا ایسا جلال تھا کہ وہ شخص کانپ گیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار زمین پر جا پڑی۔آنحضرت ﷺ نے اس تلوار کو اٹھایا اور فرمایا۔بتااب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے اس نے ہاتھ جوڑ دیئے اور گڑ گڑا کر کہا کہ آپ معاف کریں، آپ بہت احسان کرنے والے ہیں، مجھ سے غلطی ہوئی۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اوبد بخت تجھے میرا نمونہ دیکھ کے بھی پتا نہیں چلا کہ بچانے والا کون ہے۔وہ ایک ہی ہے جو ہمارا خدا ہے۔(ترمذی کتاب الصفۃ القیامۃ حدیث نمبر (۲۴۴) پس خطروں کی شدت کے وقت انسان کی سچائی آزمائی جاتی ہے خطروں کی شدت کے وقت انسان کی تو حید آزمائی جاتی ہے اور جھوٹ ایک شرک ہے۔اس کی پناہ میں آنے والے پھر تو حید سے ہمیشہ اپنا تعلق توڑ لیا کرتے ہیں۔اس لئے تو حید نام کی توحید نہیں ہے جو نعروں کے ذریعہ دنیا میں پھیلائی جائے۔اللہ اکبر کے نعرے لگانے والے جب مشکل میں مبتلا ہوں اور شیطان اکبر کے نعرے لگائیں یعنی عملاً اس کی پناہ میں آجائیں تو ان کے بلند بانگ نعروں کی کیا قیمت باقی رہ جاتی ہے۔پس چونکہ یہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے جسے خوب کھول کھول کر خدام کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔اس لئے میں آج آپ کو بھی اس بات کی یاددہانی کراتا ہوں کہ جھوٹ سے پر ہیز کا عہد کریں اور ہمیشہ کے لئے تو بہ کریں۔اپنے نفس کو ٹولتے رہا کریں۔چھوٹے جھوٹوں سے بھی بچنے کی کوشش کریں کیونکہ جھوٹ کی عادت انسان کو رفتہ رفتہ بڑے جھوٹ بولنے پر بھی آمادہ کر دیا کرتی ہے اور جہاں اپنے مفادات کا واقعات کے مطابق یہ تقاضا دیکھیں کہ جھوٹ بولیں گے