خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 533
خطبات طاہر جلد ۹ 533 خطبه جمعه ۴ ار تمبر ۱۹۹۰ء چنانچہ میں نے جرمنی کے اجتماع میں بھی جو خطبہ وہاں دیا تھا سب سے زیادہ اس بات کولیا کہ احمدی اور جھوٹ کا آپس میں کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔جس طرح شرک اور توحید کے درمیان ایک بیر ہے اسی طرح بچے موحد اور جھوٹ کے درمیان بیر ہوا کرتا ہے اور جھوٹ اور توحید اور شرک اور توحید یہ ایک ساتھ پنپ نہیں سکتے اس لئے جو احمدی بھی اپنے ادنی مفاد کی خاطر اپنی روح کو قربان کرتا ہے اور جھوٹ میں ملوث ہو جاتا ہے اتنا ہی بڑا وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کومول لینے والا بنتا ہے۔روزمرہ کی مجالس میں گپ شپ کی عادت اور مبالغہ آمیزی کی عادت تو ہمارے ملک میں عام ہے لیکن جب سنجیدہ معاملات میں جھوٹ بولے جائیں تو وہ ایسی باتیں ہیں جو یقیناً خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتی ہیں۔چنانچہ قسموں کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر تمہیں نہیں پکڑے گا۔انسانی کمزوریاں ہیں، بعضوں کو عادت پڑی ہوتی ہے یونہی قسمیں کھاتے رہنے کی لیکن جہاں تم نے قسم کو سنجیدگی سے اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا اور جھوٹ بولا تو یقیناً خدا تعالیٰ تمہیں پکڑے گا۔پس اللہ تعالیٰ بھی معمولی گپ شپ میں اور سنجیدہ جھوٹ میں فرق کرتا ہے اور سنجیدہ جھوٹ دراصل شرک کا ہی دوسرا نام ہے کیونکہ جھوٹ کے ذریعے انسان اپنے آپ کو ایسے خطرے سے بچانا چاہتا ہے جس کے لئے خدا کی پناہ بھی لے سکتا تھا لیکن خدا کی پناہ پر اس کو تو کل نہیں ہوتا۔خدا کی پناہ کے متعلق وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔وہ سمجھتا ہے پتا نہیں خدا پناہ دے یا نہ دے ، میں تو بری طرح پھنس چکا ہوں اس لئے سر دست خدا سے تعلق تو ڑ لوکوئی فرق نہیں پڑتا۔پھر دوبارہ حاضری دیدوں گا۔اس وقت تو جھوٹ کی پناہ میں آنا چاہئے۔یہ وہ گہری نفسیات ہے جو ہمیشہ جھوٹے کو خدا سے تعلق کاٹ کر شیطان سے تعلق قائم کرنے پر مجبور کر دیا کرتی ہے۔اس وقت وہ سمجھتا بھی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں لیکن خدا جو بہت باریک نظر کے ساتھ انسانی معاملات کو دیکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ جب میری ضرورت تھی تو میرے بندے نے مجھ پہ تو کل نہیں کیا اور شیطانوں پر تو کل کیا اس لئے جس پر یہ تو کل کرتا ہے اسی کا ہو جائے اور ایسے بندوں کو پھر خدا تعالیٰ کا پیار نصیب نہیں ہوا کرتا یہی مضمون تھا جو میں نے وہاں بیان کیا۔آنحضرت ﷺ کی زندگی اور صحابہ کی زندگی پر آپ غور کر کے دیکھیں کہ سب سے بڑی سچائی سے اس وقت انہوں نے کام لیا جب سب سے زیادہ خطرہ درپیش ہوا کرتا تھا اور بڑے سے