خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 508
خطبات طاہر جلد ۹ 508 خطبه جمعه ۳۱ /اگست ۱۹۹۰ء جس کی نیتوں میں فتور داخل تھا اس کی نیت صحیح تھی اس کے باوجود اس سے غلطی ہوئی۔پس چونکہ انما الاعمال بالنیات کا قانون ہر چیز پر حاوی اور غالب ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو اس غلطی کے بداثرات سے بچالیا۔پس نیتوں کا معاملہ بہت ہی باریک ہے اور آخری طور پر اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی کی نیت کیا ہے۔اس لئے نیت کی پہلی اصلاح تو یہ ہونی چاہئے اور وہ پہلا اور سب سے اہم قدم ہے کہ انسان غور کرے کہ میں کیوں مہاجر بن کے اپنے وطن سے نکلا تھا اور اگر نیت میں اس بات کا غلبہ نہ ہو کہ میں اللہ کی طرف جارہا ہوں اور خدا کے ساتھ تعلق کے لئے مجھے وہاں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا اور خدمت دین کی آزادی میسر ہوگی تو پھر ایسا شخص خطرات کے مقام پر کھڑا ہے یعنی ضروری نہیں کہ وہ خطروں میں مبتلا ہو بلکہ بعض دفعہ ہجرت سے پہلے کی خدا کی راہ میں اٹھائی ہوئی تکلیفیں اس کو سنبھال لیتی ہیں اور ان تکلیفوں کی جزا اس کی نیتوں کی اصلاح کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے عملاً بالا رادہ وہ نیت کی اصلاح نہ بھی کرے تب بھی خدا تعالیٰ ان تکلیفوں کی جزاء اسے دیتا ہے جو اس نے خدا کی خاطر اپنے وطن میں برادشت کی تھیں اور اس کے نتیجے میں نیتوں کی اصلاح بھی شروع ہو جاتی ہے اور ساتھ ساتھ اعمال کی اصلاح بھی شروع ہو جاتی ہے۔مگر نیت میں اگر بدی کا عنصر غالب ہو تو پھر یہ بہت خطرے کا مقام ہے۔ایسے لوگ پھر وہاں اگر اپنی بداعمالیوں کو چھپائے ہوئے تھے تو اس ماحول میں آکر وہ زیادہ ننگے اور زیادہ دلیر ہوتے چلے جاتے ہیں اور بالآخر ان کا بد انجام ہوتا ہے جس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔تو وہ مہاجرین جواب تک تشریف لائے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، عمومی طور پر میرا تاثر یہی ہے اور مجھے اطمینان ہے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ان کی نیتیں خالص تھیں یا ان کی نیتوں میں نیکی کا عصر غالب تھا یا ہجرت اللہ ضرور تھی۔تکلیفیں اٹھا کر ان سے گھبرا کر نکلے تھے یا انہوں نے خدا کی خاطر کچھ ایسے دکھ اٹھائے تھے جو ظاہری طور پر دنیا کو نہ بھی معلوم ہوں لیکن دل ان کے ہمیشہ خدا کی خاطر دکھوں میں مبتلا رہے ، ان کی جزا کے طور پر خدا نے ان کی نیتوں کی اصلاح فرما دی مگر جو بھی ہوا اکثر صورتوں میں خدا کے فضل سے وہ لوگ جو ہجرت کر کے باہر نکلے ہیں وہ اصلاح پذیر ہیں لیکن نظام جماعت کو ان پر نظر رکھنی چاہئے اور مسلسل کوشش کرنی چاہئے کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اصلاح کا معاملہ ایک بہت ہی مشکل معاملہ ہے۔ہزار بار بھی آپ کو سمجھاؤں تو آپ پوری طرح سمجھ