خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 507 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 507

خطبات طاہر جلد ۹ 507 خطبه جمعه ۳۱ / اگست ۱۹۹۰ء حاصل ہو چکی ہو اس وقت نیت نہ کرے بلکہ جب بدی غلبہ مار رہی ہو اور جوش دکھا رہی ہواس وقت نیت کرے اور اس وقت اس پر غالب آنے کی کوشش کرے۔اگر ایسا کرے گا تو دوبارہ اس تنور میں نہیں پڑے گا۔بار بار تنور سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ بدی کو تسکین مل گئی اور بار بار داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب باہر آ گیا تو کچھ دیر کے بعد پھر جوش پیدا ہوا اور پھر انسان اسی گناہ میں مبتلا ہو گیا۔تو یہ گناہوں میں سے ایک گناہ کی مثال ہے ایسے ہزار ہا گناہ ہیں جن میں انسان اسی طرح مبتلا ہوتا ہے اور اسی طرح ان گناہوں کے ساتھ اس کی کشمکش رہتی ہے لیکن کشمکش بھی ان ہی لوگوں کی رہتی ہے جن کا نفس لوامہ زندہ ہو۔جن کا دل انہیں بار بار کوئے ملامت کو لے کے جائے اور بار بار شرمندگی کا احساس ہو ان کے لئے بھی گناہوں پر غالب آنا کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ یہ نظارہ ہمیں بتاتا ہے کہ بہت سے بد نصیب ایسے ہیں جو بالآخر ایسی حالت میں مرتے ہیں وہ تنور کے اندر تھے تنور کے باہر نہیں تھے کیونکہ جو تنور کے باہر مرنے والے ہیں ان کا یہ نظارہ نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا۔جو بد حالت پر مرتا ہے اس کو سزا ملتی ہے جو نیک حالت پر مرتا ہے اس کا نیک انجام ہوتا ہے۔اس لئے صرف ایک مثال سے آپ سمجھ جائیں گے کہ اگر نیتوں کو یہاں آنے کے بعد بھی درست کر لیا جائے تو پھر کتنی بڑی جدو جہد کا آغاز ہونے والا ہے اور بہت لمبا وقت چاہئے اور پھر درمیان میں ایک مشکل یہ ہے کہ نیتوں کا پتا بھی نہیں چلتا کیونکہ ایک نیت کا اگر علم حاصل بھی ہو اور انسان سمجھ لے کہ میں اس معاملے میں ہمیشہ بدنیت رہا کرتا تھا اور میں نے اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا رکھا تھا، اس کے باوجود بہت سے دوسرے ایسے گناہ ، بہت سے دوسرے ایسے عوارض ہیں جن کی تشخیص کرنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہے اور ہر انسان کے لئے بڑا مشکل معاملہ ہے کہ وہ اپنے گنا ہوں کی اس طرح تشخیص کر سکے کہ وہ جان لے کہ میری نیت بد تھی اس لئے بدنتائج نکلے ہیں۔قرآن کریم نے حضرت آدم کی بریت دیکھیں کس خوبصورت انداز میں یہ بیان فرمائی۔جہاں فرمایا کہ : وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما ( طه (۱۱۲) که آدم تو خود بار بار تو بہ کر رہا تھا اور استغفار کر رہا تھا اور کہتا تھا کہ میں گنہگار ہوں لیکن خدا جو نیتوں کی کہنہ سے واقف ہے وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ ہم نے اس میں بدی کا عزم نہیں پایا تھا اس لئے تم غلط نہی میں مبتلا نہ ہو جانا کہ خدا نے ایک ایسے شخص کو نبی کے طور پر چن لیا