خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 509

خطبات طاہر جلد ۹ 509 خطبه جمعه ۳۱ /اگست ۱۹۹۰ء نہیں سکیں گے کہ کتنا مشکل ہے اس لئے دعاؤں کے ذریعہ بھی ان کی مدد کریں اور اپنی مد بھی کریں ! ور جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے کوشش کر کے ایسے لوگوں پر نظر ر کھے جو رفتہ رفتہ بدی کی طرف بڑھ رہے ہوں کیونکہ وہی سب سے بڑے خطرے میں مبتلا ہیں اور گھیر کر ان کو ہر طرح سے ذرائع اصلاح کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کو واپس لانے کی کوشش کریں اور جو نیکیاں کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ان کو احساس پیدا ہو کہ ہم خدا کے فضل سے پہلے اچھے ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس طرح انشاء اللہ رفتہ رفتہ جماعت احمدیہ کے وہ عناصر بھی جو بہت سی بدیوں میں مبتلا تھے اور وہی بدیاں لے کر باہر آگئے وہ انشاء اللہ تعالیٰ ہجرت کی برکت سے خدا کے فضل سے اصلاح پذیر ہوتے چلے جائیں گے اور ایک نئی جماعت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور دنیا کے لحاظ سے بھی اور خدا کے وعدے ان کے حق میں پورے ہوں گے اور بہت سی وسعتیں ان کو عطا ہوں گی لیکن جو بدا رادوں سے آئے ہیں اور دن بدن بدیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، ان کے لئے نہ دین رہے گا نہ دنیا رہے گی اور دونوں طرف سے وہ نامراد دکھائے جائیں گے اس لئے میں ان کو متنبہ کرتا ہوں کہ اگر کچھ غلط قدم اٹھائے گئے ہیں تو تو بہ کریں اور اپنی ہجرت کو خدا کی خاطر بنانے کی کوشش کریں اس کی پناہ میں آئیں اور پھر دین بھی ان کو عطا ہوگا اور دنیا بھی عطا ہوگی۔جہاں تک اعمال کا نیتوں پر دارومدار ہے وہ تو میں نے بیان کیا۔اس کا ایک دوسرا حصہ ہے نیتوں کا اعمال پر بھی دارو مدار ہوا کرتا ہے اور دراصل یہ ایک Wishes chain ہےWishes cirde ہے۔یعنی ایسی بدیوں کا ایک دائرہ ہے جو مزید بدیاں پیدا کرتی چلی جاتی ہیں اور پھر ان کے بچے بڑے ہو کر پہلی بدیوں کو مزید تقویت دیتے ہیں اس طرح بدیاں بڑھنے کا ایک مسلسل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔جتنے بھی ممالک مثلاً مشرقی دنیا کے ممالک ہیں ان کے اندر بعض برائیاں ہیں جو اسی طرح بدنیتیوں کو جنم دیتی ہیں اور مغربی دنیا میں بھی بعض برائیاں ہیں جو بعض بد نیتیوں کو جنم دیتی ہیں۔مثلاً یہاں فحشاء عام ہوگئی ہے اور اس کی حیا اٹھ گئی ہے اس کے نتیجہ میں ٹیلیویژن وغیرہ کے ذریعے یا اخبارات اور تصاویر کے ذریعے جو چھوٹی نسلیں ان باتوں کو دیکھتی ہیں باوجود اس کے کہ بلوغت کو نہیں پہنچی ہوتیں ان کی نیتوں میں یہ بات داخل ہو جاتی ہے کہ جب ہمیں توفیق ملے گی ہم اسی قسم کی بدیاں کریں گے اور جب نیتیں بد ہو جائیں تو پھر دوسرے قو می اصلاحی ذرائع ناکام ہو جایا کرتے ہیں۔