خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 503
خطبات طاہر جلد ۹ 503 خطبه جمعه ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء نہیں تھا لیکن ایک طبعی نتیجے کے طور پر وہ بدی نیکی پر منتج ہو گئی اور پھر اس کی جزا اس کو اس طرح ملی کہ اس کا ذکر خیر جاری ہوا۔تو اعمال کا انحصار یقیناً نیتوں پر ہوا کرتا ہے لیکن بعض صورتوں میں نیتوں کا انحصار بھی اعمال پر ہوا کرتا ہے اور یہ ضمون آگے جا کر زیادہ گہرا اور الجھا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔اس کی طرف میں رفتہ رفتہ آپ کو متوجہ کروں گا لیکن اس وقت میں خصوصیت سے یہ بات آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو پاکستان میں جو حالات درپیش ہیں ان کے نتیجے میں بہت سے احمدیوں نے وہاں سے ہجرت کی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ ان سب کے پیش نظر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ نصیحت تھی یا نہیں تھی۔جہاں تک حالات کی مجبوری کا تعلق ہے اس کا سب پر یکساں اطلاق ہو رہا ہے اور بندے کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ اس کی پاکستان سے چلنے سے پہلے خدا کی خاطر ہجرت پیش نظر نہیں تھی بلکہ دنیا کی خاطر ہجرت پیش نظر تھی۔اس لئے دنیا کے لحاظ سے تو وہ سارے مہاجرالی اللہ ہی کہلائیں گے اور اگر ان کی نیتیں خاص طور پر خدا کی خاطر ایسی جگہ جانے کی نہیں تھیں جہاں انہیں اعلائے کلمتہ اللہ کی آزادی ہو۔جہاں وہ آزادی کے ساتھ اذانیں دے سکیں خدا کا ذکر خیر کر سکیں۔تبلیغ کر سکیں تو بھی اس حد تک ان کی نیتوں میں ایک صفائی موجود ہے کہ وہ خدا کی خاطر ستائے ضرور گئے تھے اور ان میں یہ طاقت نہیں تھی کہ ان آزمائشوں کا مقابلہ کر سکتے ، اس لئے وہ جگہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ایسی ہجرت کو بھی ”ہجرت اللہ“ کہا جاسکتا ہے، کو ہجرت الی اللہ نہیں ہوگی۔وہ ہجرت جو اللہ بھی اور الی اللہ بھی ہو وہ ہجرت در حقیقت حضرت محمد مصطفی امی اور آپ کے غلاموں کی ہجرت تھی۔اس سے پہلے ایک ایسی ہجرت جو اللہ “ کہلا سکتی ہے گو الی اللہ کا محاورہ غالباً اس پر صادق نہیں آتا یعنی ہجرت حبشہ۔کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقعہ پر یہ بھی فرمایا کہ من كانت هجرته الى الله و رسوله ( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر (۵۲) کہ جس شخص کی ہجرت خدا اور رسول کی طرف ہو وہ خدا اور رسول کو پالیتے ہیں تو جس وقت ہجرت حبشہ ہوئی ہے اسی وقت تو آنحضرت مہ مصائب میں گھرے ہوئے اپنے اور بہت سے مخلصین کے ساتھ مکے میں موجود تھے۔دودفعہ ہجرت حبشہ ہوئی اور اس کے بعد پھر ایک لمبا عرصہ تک آنحضرت ا سکے ہی میں مقیم رہے تو وہ ہجرت الى الله ورسوله “ ان معنوں میں نہیں کہلا سکتی کیونکہ رسول تو خود بغیر ہجرت 66