خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 502
خطبات طاہر جلد ۹ 502 خطبه جمعه ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء مثالیں ہیں اور ان میں بھی بالعموم آخر نیک نیت ہی کامیاب ہوتی ہے اور بدی کا نتیجہ بد نہیں نکلتا۔إِلَّا مَا شَاءَ الله - یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیوں بعض دفعہ استثناء ہوتے ہیں۔اس وقت میں اس میں نہیں جانا چاہتا لیکن میں آپ کے سامنے مثال رکھتا ہوں ایک دفعہ کرنل محمد حیات قیصرانی صاحب جو بہت ہی مخلص اور فدائی احمدی تھے اور بہت قابل سپاہی اور بہت بہادر اور بے خوف سپاہی تھے انہوں نے مجھے یہ بتایا کہ آزاد کشمیر میں ان کو آزاد کشمیر کی فوج کے ساتھ بہت لمبا عرصہ کام کرنے کا موقعہ ملا ہے اور اس کے علاوہ پاکستان کی دوسرے علاقوں کی فوجوں کے ساتھ بھی وہ وابستہ رہے ہیں ویسے تو وہ بلوچ رجمنٹ کے تھے لیکن کہتے ہیں کہ میں نے کسی علاقے کا سپاہی اتنا اچھا نہیں دیکھا جتنا آزاد کشمیر کا سپاہی ہے۔اس میں بہادری بھی ہے۔اس میں قربانی کا جذ بہ بھی ہے اور عقل سے بھی کام لیتا ہے۔اس کی ایک مثال انہوں نے یہ دی کہ ایک دفعہ با قاعدہ جنگ تھی یا ہندوستانی کشمیر کے ساتھ چپقلش چل رہی تھی تو کرنل صاحب کی چونکہ عادت تھی کہ وہ ہمیشہ خطرے کے مقام پر آگے بڑھ کر سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کیا کرتے تھے اس لئے اس عادت کے مطابق وہ ایک مہم کے دوران آگے بڑھ کر ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ جہاں وہ دشمن کی گولی کا نشانہ بنائے جاسکتے تھے۔ان کے قریب ہی پیچھے ان کا جو نئیر افسر جو آزاد کشمیر سے تعلق رکھتا تھا وہ بھی آرہا تھا اس کی نظر پڑی کہ سامنے کے مورچے سے ایک ہندوستانی سپاہی نے بندوق کا نشانہ کرنل صاحب کو بنایا ہے۔پیشتر اس کے کہ وہ ٹریگر دبا دیتا اور وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا، اس نے اچانک بہت زور کے ساتھ دھپڑ مار کے کرنل صاحب کو گرا دیا اور اس دوران وہ خود اس خطرے کے مقام پر آگے آ گیا۔یہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فضل فرمایا کہ وہ خود بھی مجروح نہیں ہوا اور اس پر گولی کا نشانہ ٹھیک بیٹھ نہیں سکا لیکن گولی چلائی ضرور گئی۔اب یہ ایک مثال ہے۔اگر فوج میں کوئی سپاہی کسی افسر کو تھپڑ مارے اور پھر اس طرح ذلت کے ساتھ گرا بھی دے تو یہ ایک بہت بڑا جرم ہے بعض دفعہ اس کے نتیجے میں اس کو بہت سنگین سزامل سکتی ہے لیکن وہاں نیت یہ تھی کہ افسر کو بچایا جائے اور اس نیک نیت کی وجہ سے وہ جو بدی تھی اس کو بھی نیکی کا ایک رنگ مل گیا اور ہمیشہ کرنل صاحب یہ واقعہ اس کی تعریف میں بیان کیا کرتے تھے۔ایک ظاہری بدی ہے لیکن نسیت نے اس کو حسن عطا کر دیا۔اس لئے قانون طبیعی بھی جاری و ساری ہے اور یہاں خدا کی طرف سے جزا د ینے کا معاملہ