خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 504
خطبات طاہر جلد ۹ 504 خطبه جمعه ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء کے وہاں بیٹھا ہوا تھا مگر یقیناوہ سلسلہ تھی یعنی اس میں خدا کے تعلق کا ایک دخل تھا۔خدا کی خاطر تکلیفیں اٹھانے والے جب ایک ایسے حال کو پہنچے کہ بات ان کی حد برداشت سے بڑھ گئی تو انہوں نے ہجرت کی جو یقینا اللہ کی خاطر تھی مگر اللہ اور اللہ کے رسول مکے میں اس سے زیادہ موجود تھے اپنے تعلق کے لحاظ سے جتنا اس وقت وہ حبشہ میں کہیں موجود ہوں گے۔یعنی خدا کی ذات تو ہر جگہ ہے لیکن اپنے تعلق اور اظہار کی رو سے وہ بعض جگہ زیادہ عیاں ہوتی ہے اور بعض جگہ کم عیاں ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خدا کا جلوہ تو مکے میں روشن تھا جہاں آنحضرت تھے۔تو اسی سے استنباط کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی ہجرت میں یہ نیت داخل نہیں ہوگی کہ ایسی سرزمینوں کی طرف جائیں جہاں خدا کا نام لینے کی آزادی ہو، جہاں خدا کا نام دوسروں تک پہنچانے کی آزادی ہو اور اس سے ہم خدا کا قرب حاصل کریں مگر چونکہ خدا کی خاطر ستائے گئے ہیں اس لئے للہ کہنا جائز ہے لیکن کچھ اور بھی لوگ ہو سکتے ہیں اور بعض نتائج مجھے بتا رہے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جن کی نیت در اصل دنیا کی خاطر ہجرت ہے اور جب یہ بات ہجرت کی نیت میں داخل ہو جائے تو ہجرت ثواب سے بھی محروم ہو جاتی ہے اور نیک اثرات سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔ہجرت کے متعلق قرآن کریم میں کچھ وعدے دیئے گئے ہیں کہ جو خدا کی خاطر خدا کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہ سلوک فرمائے گا۔ان وعدوں کا تعلق ان ہی ہجرتوں سے ہے جو اللہ ہو اور الی اللہ “ ہوں ، دوسری ہجرتوں سے ان وعدوں کا کوئی تعلق نہیں۔پس ایسے لوگ ان باتوں سے محروم رہ جاتے ہیں اور عملاً ہمارے ملک میں بدقسمتی سے نیتوں میں اس حد تک فتور داخل ہو چکا ہے کہ نیتوں کا فتور ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو گیا ہے اور بچپن سے ہی لوگوں کے مزاج میں نیتوں کا فتور پایا جاتا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ ہم خدا تعالیٰ سے توقع رکھتے ہیں کہ احمدی اس پہلو سے خدا کے نزدیک سرخرو ٹھہریں گے مگر عملاً یہ بات معلوم کرنا بہت مشکل ہے اور بسا اوقات ہجرت کر نیوالوں کو بھی معلوم نہیں ہوتی۔چنانچہ بعض ہجرت کرنے والے ایسے ہو سکتے ہیں جن کی نیت خالصہ دنیا کمانا ہو اور دنیا کے آرام حاصل کرنا ہو۔ایسے ہجرت کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے ان دونوں باتوں کو ملا دیا ہے اور ان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نرمی کے سلوک