خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 448
خطبات طاہر جلد ۹ 448 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۹۰ء نہیں رہنا چاہئے۔اگر یہ ایسا کر لیں تو جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی تائید تمہیں حاصل ہوگی اور لازماً تم ان کوششوں میں کامیاب ہو گے۔پھر تاکیداً فرمایا : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اپنے بھائیوں کے درمیان ، جو آپس میں بھائی بھائی ہیں صلح کرواؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تقویٰ اختیار کرنے والوں پر رحم کیا جاتا ہے۔پس کوئی مسئلہ بھی جو اسلام سے یا قرآن سے تعلق رکھتا ہو تقویٰ کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام مسلمانوں کے مسائل کا مختصر تجزیہ لیکن ایسا تجزیہ جو تمام حالات پر حاوی ہو یوں فرمایا کہ تقویٰ کی راہ گم ہوگئی ہے۔اسلام کا نام تو ہے لیکن تقویٰ کا راستہ باقی نہیں رہا۔وہ ہاتھ سے کھویا گیا ہے۔جب تقویٰ کی راہ گم ہو جائے تو پھر جنگلوں اور بیابانوں میں بھٹکنے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔پس میں جماعت احمدیہ کے سربراہ کے طور پر اپنے تمام مسلمان بھائیوں کو خواہ وہ ہمیں بھائی سمجھیں یا نہ سمجھیں، یہ پر زور اور عاجزانہ نصیحت کرتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی امت کو شدید خطرات درپیش ہیں۔تمام عالم اسلام کی دشمن طاقتیں آپ کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی دخل اندازی کے بہانے ڈھونڈتی ہیں اور ایک لمبا عرصہ ہوا کہ آپ ان کے ہاتھ میں نہایت ہی بے کس اور بے بس مہروں کی طرح کھیل رہے ہیں اور ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔اس لئے تقومی کو پکڑیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی امت کو جو آج دنیا میں ذلت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور تمسخر کا سلوک ان کے ساتھ کیا جارہا ہے، تمام دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بڑی حقارت سے عالم اسلام کو دیکھتی ہیں اور بجھتی ہیں کہ یہ ہمارے ہاتھوں میں اسی طرح ہیں جس طرح بلی کے ہاتھوں میں چوہا ہوا کرتا ہے اور جس طرح چاہیں ہم ان سے کھیلیں اور جب چاہیں سوراخ میں داخل ہونے سے پہلے پہلے اس کو دبوچ لیں۔یہ وہ معاملہ ہے جو انتہائی تذلیل کا معاملہ ہے۔نہایت ہی شرمناک معاملہ ہے اور عالم اسلام پر داغ پر داغ لگتا چلا جارہا ہے۔اسلام کی عزت اور وقار مجروح ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے خدا کا خوف کریں اور اسلام کی تعلیم کی طرف واپس لوٹیں اس کے سوا اور کوئی پناہ نہیں ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ادبار اور تنزل کا دور اور یہ بار بار کے مصائب حقیقت میں حضرت