خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 449
خطبات طاہر جلد ۹ 449 خطبه جمعه ۳ /اگست ۱۹۹۰ء اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کا نتیجہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور آخری پیغام میرا یہی ہے کہ وقت کے امام کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔خدا نے جس کو بھیجا ہے اس کو قبول کرو۔وہی ہے جو تمہاری سربراہی کی اہلیت رکھتا ہے۔اس کے بغیر اس سے علیحدہ ہو کر تم ایک ایسے جسم کی طرح ہو جس کا سر باقی نہ رہا ہو۔بظاہر جان ہو اور عضو پھڑک رہے ہوں بلکہ درد اور تکلیف سے بہت زیادہ پھڑک رہے ہوں لیکن وہ سر موجود نہ ہو جس کی خدا نے اس جسم کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے پیدا فرمایا۔پس واپس لوٹو اور خدا کی قائم کردہ اس سیادت سے اپنا تعلق باندھو۔خدا کی قائم کردہ قیادت کے انکار کے بعد تمہارے لئے کوئی امن اور فلاح کی راہ باقی نہیں ہے اس لئے دکھوں کا زمانہ لمبا ہو گیا۔واپس آؤ اور تو بہ اور استغفار سے کام لو۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ خواہ معاملات کتنے ہی بگڑ چکے ہوں اگر آج تم خدا کی قائم کردہ قیادت کے سامنے سرتسلیم خم کر لو تو نہ صرف یہ کہ دنیا کے لحاظ سے تم ایک عظیم طاقت کے طور پر ابھرو گے بلکہ تمام دنیا میں اسلام کے غلبہ نو کی ایسی عظیم تحریک چلے گی کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور وہ بات جو صدیوں تک پھیلی ہوئی دکھائی دے رہی ہے وہ دہا کوں کی بات بن جائے گی ، وہ سالوں کی بات بن جائے گی۔تم اگر شامل ہو یا نہ ہو، جماعت احمد یہ بہر حال تن من دھن کی بازی لگاتے ہوئے جس طرح پہلے اس راہ میں قربانیاں پیش کرتی ہے کرتی رہی ہے، آج بھی کر رہی ہے، کل بھی کرتی چلی جائے گی اور اس آخری فتح کا سہرا پھر صرف جماعت احمد یہ کے نام لکھا جائے گا۔(انشاء اللہ ) پس آؤ اور اس مبارک تاریخی سعادت میں تم بھی شامل ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہمیں تمہاری خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ایک بہترین خدمت گار تمہیں مہیا ہوئے تھے جو خدا کے نام پر خدا کی خاطر اور حضرت اقدس محمد مصطفی حملے کی محبت میں ہر مشکل مقام پر تمہارے لئے قربانیاں کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔تم نے ان سے استفادہ نہیں کیا اور ان کی خدمت سے محروم ہو گئے ہو۔یہ اس دور کی عالم اسلام کی سب سے بڑی بدنصیبی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو عقل عطا فرمائے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے میری نصیحت یہ ہے کہ خواہ وہ آپ سے فائدہ اٹھا ئیں یا نہ اٹھائیں، خواہ وہ آپ کو اپنا بھائی شمار کریں یا نہ کریں، دعاوں کے ذریعہ آپ امت محمدیہ کی مدد کرتے