خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 447

خطبات طاہر جلد ۹ 447 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۹۰ء عرب دنیا تک محدود نہ رکھا جائے کیونکہ جب آپ اسلام کے لفظ کو بیچ میں سے اڑا دیتے ہیں اور ایک اسلامی مسئلے کو علاقائی مسئلہ بنادیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں خدا تعالی کی تائید اپنا ہاتھ کھینچ لیتی ہے۔پس تعلیم قرآن میں کسی قوم کا ذکر نہیں ہے جو ہدایت قرآن کریم نے عطا فرمائی ہے،اس میں مسلمانوں کا بحیثیت مجموعی ذکر ہے اور ان سب کو بھائی بھائی قرار دیا گیا ہے۔پس یہ ہرگز عرب مسئلہ نہیں ہے یہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔اس میں انڈونیشیا کو بھی اسی طرح ملوث ہونا چاہئے جس طرح پاکستان کو ملائیشیا کو بھی اسی طرح ملوث ہونا چاہئے جیسے الجیریا کو یا دوسرے ممالک کو اور سب ممالک کا ایک مشترکہ بورڈ تجویز کیا جانا چاہئے جوفریقین کو مجبور کریں کہ وہ صلح پر آمادہ ہوں اور اگر وہ صلح پر آمادہ نہ ہوں تو تمام عالم اسلام کی طاقت کو اس ایک باغی طاقت کے خلاف استعمال ہونا چاہئے اور تمام غیر مسلم طاقتوں کو یہ پیغام دے دینا چاہئے کہ آپ ہمارے معاملات سے ہاتھ کھینچ لیں اور ہمارے معاملات میں دخل نہ دیں۔ہم قرآنی تعلیم کی رو سے اس بات کے اہل ہیں کہ اپنے معاملات کو خود سلجھا سکیں اور خود نپٹا سکیں مگر افسوس ہے کہ اس تعلیم پر عمل درآمد کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔یہ عراق اور کویت کی لڑائی کا جو واقعہ ہے یا عراق کے کویت پر حملے کا ، اس کے پس منظر میں بہت سی بددیانتیاں اور عہد شکنیاں ہیں، صرف عربوں کے آپس کے اختلاف نہیں ہیں بلکہ تیل پیدا کرنے والے دوسرے اسلامی ممالک بھی اس معاملے میں ملوث ہیں۔چنانچہ انڈو نیشیا ہے مثلاً ، اس کو اپنے عرب مسلمان بھائیوں سے شدید شکوہ ہے کہ Opec کے تحت جو معاہدے کرتے ہیں ان معاہدوں کو خود بصیغہ راز توڑ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اجتماعی طاقت سے جو فوائد حاصل ہونے چاہیں وہ نقصانات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ہر ملک جس طرح چاہتا ہے اپنا تیل خفیہ ذرائع سے بیچ کر زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس اس پس منظر میں بھی تقوی ہی کی کمی ہے۔یہ معاملہ صرف عراق اور کویت کی جنگ کا نہیں بلکہ آپس کے معاملات میں تقویٰ کے فقدان کا معاملہ ہے اور جو بھی عالمی ادارہ اس بات پر مامور ہو کہ وہ ان دونوں لڑنے والے ممالک یا ایک ملک نے جو حملہ کیا ہے، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل کریں، اس کا فرض ہو گا کہ وہ تہہ تک پہنچ کر ان تمام محرکات کا جائزہ لیں جن کے نتیجے میں بار بار اس قسم کے خوفناک حالات پیدا ہوتے چلے جاتے ہی اور اس میں ایران کو بھی برابر شامل کرنا چاہئے۔کوئی مسلمان ملک اس سے باہر