خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 446 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 446

خطبات طاہر جلد ۹ 446 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۹۰ء جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ تمام اکٹھے ہو کر اس معاملے میں دخل دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور بعض مسلمان ممالک ان سے دخل اندازی کی اپیلیں کر رہے ہیں۔چنانچہ ایک مغربی مفکر کا انٹرویو میں نے دیکھا۔اس نے یہ اعلان کیا کہ اس وقت عراق اور کویت کی لڑائی کے نتیجے میں Concentric دو دائرے قائم ہو چکے ہیں یعنی ایک ہی مرکز کے گرد کھینچے جانے والے دو دائرے ہیں۔ایک چھوٹا دائرہ ہے جو عالم اسلام کا دائرہ ہے ایک بڑا دائرہ ہے جو تمام دنیا کا دائرہ ہے اور ہم یہ انتظار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عالم اسلام کا دائرہ اس فساد کے مرکز کی طرف متوجہ ہو کر اس کی اصلاح میں کامیاب ہو جائے لیکن اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے اور خطرہ ہے۔(انہوں نے تو خطرے کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں ) انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ تمام دنیا کے وسیع تر دائرے کو اس معاملے میں دخل دینا پڑے گا۔اس مختصر خطبے میں میں عالم اسلام کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی تعلیم کی طرف لوٹیں تو ان کے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔یہ بہت ہی قابل شرم بات ہے اور نقصان کا موجب بات ہے کہ ساری دنیا مسلمان ممالک کے معاملات میں دخل دے اور پھر ان سے اس طرح کھیلے جس طرح شطرنج کی بازی پر مہروں کو چلایا جاتا ہے اور ایک کو دوسرے کے خلاف استعمال کرے جیسا کہ پہلے کرتی چلی آئی ہے۔امر واقعہ یہ ہے اس وقت مسلمانوں کی طاقتیں اپنی دولت کو اپنے ہی بھائیوں کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔وہ تیل جس کو خدا تعالیٰ نے ایک نعمت کے طور پر اسلامی دنیا کو عطا کیا تھا، وہ تیل جہاں غیروں کے لئے عظیم الشان ترقیات کا پیغام بن کر آیا ہے اور وہ اس کے نتیجے میں اپنی تمام صنعت کو چلا رہے ہیں اور ہر قسم کی طاقت کے سرچشمے جن کی بنیادیں مسلمان ممالک میں ہیں ان کے لئے فائدے کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔جہاں تک مسلمان ممالک کا تعلق ہے وہ اس تیل کو ایک دوسرے کے گھر پھونکنے اور ایک دوسرے کی مملکتوں کو جلا کر خاکستر کر دینے میں استعمال کر رہے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس کے سوا اس کا آخری تجز یہ اور کوئی نہیں بنتا۔اب بھی وقت ہے اگر عالم اسلام تقویٰ سے کام لے اور قرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کر لے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کوئی غیر مسلم طاقت اسلامی معاملات میں کسی طرح دخل دینے پر مجبور ہو اور ضروری ہے کہ ان دو قرآنی آیات کی تعمیل میں اس مسئلے کو جو آج بہت ہی بھیانک شکل میں اٹھ کھڑا ہوا ہے محض