خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 440
خطبات طاہر جلد ۹ 440 خطبہ جمعہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۹۰ء سمجھیں، نیک سمجھیں ، اس کی عزت کریں اور اس طرح اس کو سوسائٹی سے کچھ فوائد پہنچ جائیں۔یہ نفاق لا ز مابر انفاق ہے لیکن ایک انسان کوشش کر کے محض اس لئے اپنے پر دے ڈھانپتا ہے کہ لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب نہ ہو اور جو نسبتاً بہتر ایمان والے لوگ ہیں ان کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنے تو یقیناً یہ نفاق بر اتفاق نہیں ہے کیونکہ یہ خدا کی خاطر ہے اور اچھی نیت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔تم ان باتوں پر غور کرتے ہوئے آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ اس قسم کے نفاق مؤمنوں کی سوسائٹی میں تو ملتے ہیں کفار کی سوسائٹی میں نہیں ملتے۔کفار کی سوسائٹی تو کھلی کھلی ہوتی ہے اُن کی بدیاں با ہر نکل آتی ہیں اور ساری دنیا کو دکھائی دے رہی ہوتی ہیں اور بعض معصوم یہ سمجھتے ہیں کہ دیکھو یہ لوگ بچے ہیں اور کم سے کم منافق تو نہیں جو کچھ ہے وہ سب کچھ انہوں نے ظاہر کر دیا لیکن یہ بات نہیں سوچتے کہ ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ شیطانوں کے دوست بن چکے ہوتے ہیں اور مسلسل شیطان ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتا چلا جاتا ہے۔ایسے لوگ بظاہر نفاق کی بدی سے تو پاک ہوتے ہیں لیکن اس بدی سے پاک ہونے کا نام کفر ہے۔یعنی اپنی بدیوں پر دلیر ہو چکے ہوتے ہیں۔اپنی بدیوں سے حیامٹ چکی ہوتی ہے، کسی قسم کی شرم باقی نہیں رہتی۔اس لئے نفاق کی ضرورت نہیں رہتی اور اس وجہ سے کہ شرم بدیوں کی حیا نہیں رہی لازما یہ سوسائٹیاں بد سے بدتر حال کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں۔پس وہ تمام سوسائٹیاں جن میں یہ نشانی آپ کو دکھائی دے کہ وہاں بدی کی حیا مٹ گئی ہے اور حیا مٹ جانے کی وجہ سے دن بدن مزید بدی وہ سوسائٹی اختیار کرتی چلی جاتی ہے ایسی سوسائٹی کا قدم ہمیشہ اعلیٰ حالتوں سے ادنیٰ حالتوں کی طرف جاری رہتا ہے اور کوئی اُن کو روکنے والا نہیں ہوتا لیکن مؤمنوں کی حالت میں جو نفاق پایا جاتا ہے وہ اور وجہ سے ہے۔وہاں ایک بڑا طبقہ مومنوں کا بدیوں کے باوجود بدیوں کی حیا رکھتا ہے اور اپنے دل میں گھلتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے اور استغفار کرتا رہتا ہے اور خدا سے بھی شرماتا ہے اور بندوں سے بھی شرماتا ہے۔اس مضمون کو قرآن کریم نے حضرت آدم کے واقعہ کی شکل میں ہمیں کھول کر دکھایا۔فرمایا جب آدم سے غلطی ہوئی اور اُسے اپنی غلطی کا شعور ہوا تو وہ بھولا انسان خدا سے چھپنے لگا اور جنت کے پتے اپنی کمزوریوں پر ڈھانپنے لگا تا کہ وہ خدا کی نظر سے پیچھے ہٹ جائے۔خدا کی نظر سے تو کوئی ہٹ نہیں سکتا ، خدا کی نظر سے تو کوئی چھپ نہیں سکتا لیکن یہ آدم کی حیا تھی جو ظاہر کی گئی ہے اور یہی حیا تھی جو اُس کی بخشش کا