خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 439
خطبات طاہر جلد ۹ 439 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء میرے اُٹھانے پر اٹھنا تو در کنار بُرا مناتے تھے اور نا پسندیدگی کا اظہار کرتے تھے۔پس یورپ کا ایک نیا مخلص احمدی جس نے عیسائیت کو ترک کیا اور اسلام کو قبول کیا اس کا تو یہ نمونہ تھا اور اس کے مقابل پر جن لوگوں کے متعلق وہ سمجھتا تھا کہ وہ ایمان میں ہم سے بہت آگے ہوں گے ان کا یہ نمونہ تھا۔چنانچہ اس نے اپنے فکر کا اظہار کیا۔مجھے یاد آ گیا یہ براہ راست ( مجھے خط نہیں لکھا بلکہ مربی سے انہوں نے ان باتوں کا اظہار کیا اور انہوں نے پھر مجھے یہ ساری تفصیل لکھی۔) بہر حال بات وہی ہے عملاً واقعہ ایسے ہی ہوا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ مخلص اور نیک ہیں اس لئے ان کے لئے خصوصیت سے دعا بھی کی اور ان کو سمجھانے کا خط بھی لکھا چنانچہ اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ اس ابتلاء سے وہ ثابت قدم باہر نکل آئے اور کسی قسم کے لغزش نہیں کھائی لیکن اول تو ہر شخص ایک مقام پر نہیں ہوتا اور دوسرے ہر شخص کی بات مجھ تک پہنچتی بھی نہیں اور ہر شخص اپنے وساوس کا اظہار دوسرے سے کرتا بھی نہیں۔اس لئے بعض خاموش تماشائی ایسے بھی ہوتے ہیں جو اثرات لے کر واپس لوٹ جاتے ہیں اور کسی دوسرے کو صفائی کا موقع نہیں دیتے۔ایسے لوگوں کے متعلق ہم کیسے فکر کر سکیں گے۔اس لئے پاکستان سے آنے والے احمدیوں کو خصوصیت کے ساتھ میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے نفاق کی حالت پر نگاہ کریں۔اگر تو آپ کے نفاق کی حالت یہی ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا وہ اُن کو اندھیروں سے لازماً روشنی کی طرف بلائے گا تو پھر مجھے آپ کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے۔لیکن اگر خدا کی ولایت سے خالی ہیں ،اگر آپ کی بدیاں بچپن سے آپ میں راسخ ہو چکی ہیں اور وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہیں اور کم نہیں ہو رہی ہیں یا بدیوں کا احساس نہیں رہا، وہ شعور نہیں رہا جو شعور انسان کو اپنے اندرونے سے آگاہ کرتا رہتا ہے تو پھر آپ کی حالت سخت خطرے کی حالت ہے اور یہ حالت تو وہاں بھی خطرے کی تھی اور یہاں بھی خطرے کی ہے لیکن خدا کے لئے اس حالت کو دوسروں کے لئے تو خطرے کا موجب نہ بنائیں۔خدا کا خوف کریں اور اپنے اعمال کی اس طرح نگرانی کریں کہ اگر کچھ کمزوریاں ہیں تو کم سے کم آپ کی ذات تک رہیں جب تک خدا آپ کو ان سے نجات نہیں بخشا۔دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنیں۔جہاں تک اس قسم کے نفاق کا تعلق ہے یہ نفاق بُرا نفاق نہیں بلکہ اچھا نفاق ہے۔ایک انسان بعض دفعہ نفاق کا اظہار کرتا ہے اپنے متعلق غلط تاثرات پیدا کرنے کے لئے کہ لوگ اس کو متقی