خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد ۹ 426 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء وہاں دیکھے کہ کس طرح ہدایتیں پہنچی ہیں اور کس طرح وہاں کام ہورہا ہےاور Planning کے وقت بھی بار یک بار یک امکانات کو اور احتمالات کو پیش نظر رکھے۔ایسا ہی مربی دین میں کامیاب ہوتا ہے اور ایسا ہی منتظم دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ ہمیشہ ہر حکم دینے کے بعد دوبارہ سنتے تھے اور سننے کے بعد اگر اُس کو ضرورت پڑتی تھی تو پھر دوبارہ بتاتے تھے اور پھر سنتے تھے۔جب تک آپ کی یہ تسلی نہیں ہو جاتی تھی کہ سننے والے نے بات سمجھ لی ہے اُس وقت تک آپ اُس کو رخصت کی اجازت نہیں دیتے تھے۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت سارے انتظامات میں خرابی کا باعث اس سنت سے غفلت بنتی ہے یعنی جو کارکن اس سنت کو نہیں اپناتے وہ ایک پیغام دے دیتے ہیں اور پھر بے فکر ہوکر غافل ہو جاتے ہیں۔جب کوئی نتیجہ نہ نکلے یا غلط نتیجہ نکلے اور ہم پوچھیں وہ کہتے ہیں جی ہم نے تو بتا دیا تھا اس کو۔جب اُس کو جس کا بھی جو بھی نام ہو اُس کو بلایا جاتا ہے کہ جی تمہیں بتا دیا تھا پھر تم نے یہ حرکت کی تو وہ کہتا ہے جی مجھے انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا یہ بتایا تھا۔اب اس میں جھوٹ سچ کا سوال نہیں ہے۔سننے کے انداز مختلف ہیں بتانے کے انداز مختلف ہیں۔جب تک ان دونوں کا مزاج ہم آہنگ نہ ہو جائے اور اچھی طرح یہ بات واضح نہ ہو جائے کہ جو کہا گیا تھا وہ سمجھا بھی گیا ہے کہ نہیں اُس وقت تک دونوں میں سے کسی کا قصور بھی قرار نہیں دیا جا سکتا یا یوں کہنا چاہئے کہ دونوں کا قصور ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذمہ داری سنانے والے پر ڈالی ہے۔اسی لئے اپنی خدا کے حضور اسی رنگ میں ذمہ داری دیکھتے رہیں اور یہ وہ راز ہے آپ کی عظمت کا جو شخص کسی کی جواب طلبی کرنے والا ہو اگر وہ اپنی جوابدہی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اُس فکر میں ہلکان نہیں رہتا تو وہ حقیقت میں جواب طلبی کی بھی اہلیت نہیں پاتا اور ایسی خرابیاں اُس کے نظام میں لازما ہوں گی جس کے نتیجے میں جو بات اُس کے سپرد کی گئی ہے آگے صحیح رنگ میں پہنچی ہے کہ نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق تھا کہ بار بار بیان فرماتے پھر یہ بھی فرمایا کرتے کہ جو حاضر ہے وہ غائب تک یہ بات پہنچائے اور پھر خود آخری عمر میں سب سے بڑے مجمع میں مخاطب کر کے جو حجۃ الوداع کا موقعہ تھا اُس وقت آپ نے فرمایا کہ بتاؤ ، گواہی دو کہ خدا نے جو مجھے پیغام دیا تھا میں نے تم تک پہنچا دیا۔گواہی دو کہ جو خدا نے مجھے پیغام دیا تھا میں نے تم تک پہنچا دیا اور وہ لاکھوں کا مجمع بتایا جاتا ہے کہ اس سارے مجمع نے بیک