خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 427
خطبات طاہر جلد ۹ 427 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء زبان ہو کر گواہی دی۔آپ کو ان کی گواہی کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ آپ اُن پر گواہ تھے لیکن اپنے دل کی ایک خواہش پوری کرنے کے لئے کہ خدا کے سامنے میں جوابدہ ہوں میرے سامنے یہ لاکھوں خدا کے بندے گواہ ٹھہر جائیں کہ ہاں میں نے حق ادا کر دیا ہے۔اچھا منتظم خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ہو اُس کو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر چلے بغیر چارہ ہی کوئی نہیں۔چاہے نہ چاہے اُسے اس سنت پر عمل کرنا ہی ہوگا اور جہاں نہیں کرے گا وہاں نقصان اُٹھائے گا۔سنت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ خوبی ہے کہ اس کے اکثر حصے ایسے ہیں جس میں منکرین کے لئے بھی سوائے سنت پر چلے بغیر چارہ نہیں ہے۔نہیں چلیں گے تو مارکھا ئیں گے۔اس لئے جو غلام ہیں، جو عاشق ہیں، جنہوں نے دنیا کو اس غلامی کے رنگ سکھانے ہیں اُن کے لئے تو بہت ہی ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو بڑی باریک نظر سے دیکھیں اور اپنی جان پر اس کو جاری کریں اور اپنے دل سے چمٹا کے بیٹھ جائیں اور پھر اُس سے استفادہ کر کے نیک نمو نے دنیا میں ظاہر کریں جو سنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کرنے والے نمونے ہوں۔پس نظام جماعت کے ہر حصے پر اس بات کا اطلاق پاتا ہے۔آپ جب کسی کارکن کو ہدایت دیں جلسے کے موقع پر بھی یہی طریق اختیار کریں، ہدایت کے بعد اُس سے پوچھیں کہ کیا سمجھے ہو بتاؤ؟ پھر وہ جو غلط سمجھا ہوگا اُس کو درست کریں اور اُس کو پھر یہ بھی سکھائیں کہ آگے بھی تم نے اسی طرح اگر کسی اور کو پیغام دینا ہے تو اسی طریق پر دو اور اچھی طرح یقین کر لو کہ بات صحیح رنگ میں پہنچ گئی ہے۔آخری بات یہ کہ دُعا پر بہت زور دیں۔میں نے بار ہاز ور دیا ہے لیکن دُعا ایک ایسی چیز ہے جس پر پورا زور دیا ہی نہیں جاسکتا۔یعنی جتنا بھی دیں اُتنا ہی کم ہے۔یہ محاورہ ہے اردو کا مگر عملاً یہ محاورہ اور کسی چیز پر صادق آئے نہ آئے دُعا کے مضمون پر ضرور آتا ہے۔انسان جس کو کثرت سے دُعا کی عادت بھی ہو وہ بھی بعض موقع پر غافل ہو جاتا ہے اور جس کو زیادہ دُعا کی عادت ہو اور خدا تعالیٰ اُس کو سبق دینا چاہے اُس کی تھوڑی سی غفلت بھی غلط نتیجہ پیدا کر کے اُس کے سامنے آکھڑی ہوتی ہے اور جب اُسے یاد آتا ہے کہ اوہو میں نے تو دُعا کرنی تھی اور دُعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس نتیجے کو درست بھی فرما دیتا ہے۔پس ہمارے تمام منتظمین کو دُعا کو اپنانا چاہئے اور دُعا سکھانی چاہئے جس طرح نماز سکھانی