خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 422 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 422

خطبات طاہر جلد ۹ 422 خطبہ جمعہ ۲۰ / جولائی ۱۹۹۰ء نہیں ہے کہ آپ اپنی طرف سے خود فیصلہ کریں۔اُس میں نظام کا تقاضا یہ ہے کہ کچھ نظر رکھیں اور اس عرصے میں پیغام بھیج کر یا متعلقہ افسر کو مطلع کر کے اُس سے راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور افسر بالا کا بھی یہ کام ہے کہ وہ حسن خلق سے پیش آئے اور لوگوں کی ٹھوکر کا موجب نہ بنے۔جماعت احمد یہ دل جیتنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اس بنیادی حقیقت کو تو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے اور نظام جماعت کی متابعت میں اگر دل ٹوٹتے ہوں تو ہر کارکن کا فرض ہے کہ وہ اپنی جان پر زیادہ سے زیادہ تکلیف لے لے اور دل توڑنے سے گریز کرے اور نظام کے تقاضے کو اس طرح سرانجام دے کہ اُس کے دل کو بیشک تکلیف پہنچ رہی ہو لیکن جس پر وہ نظام جاری کرنا ہے اُس کو کم سے کم تکلیف پہنچے یا نہ پہنچے۔یہ ایک سلیقہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر بعض لوگوں کو ودیعت ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو سکھانا پڑتا ہے لیکن اگر باشعور طور پر ہر انسان ان باتوں کو سمجھ کر اپنے مزاج کو ان چیزوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے تو ناممکن نہیں ہے۔آہستہ آہستہ تربیت سے لوگ سمجھ جاتے ہیں۔بہر حال کوشش یہی کرنی چاہئے کہ آپ کسی کی ٹھوکر کا موجب نہ بنیں اور دل شکنی کا موجب نہ بنیں اور اگر تو ازن اس طرح کا خطرناک ہو کہ ایک طرف کسی قسم کا خطرہ درپیش ہو اور دوسری طرف ٹھوکر کا مسئلہ ہو تو یہ وہ صورتحال ہے جس کی فوری طور پر بالا افسر کو اطلاع کرنی ضروری ہے یہی حل ہے اور اُس وقت تک اپنی نگرانی رکھیں جب تک آپ نگرانی رکھ سکتے ہیں۔جلسہ سالانہ کے نظام کے متعلق ایک اور اہم بات جس کی طرف میں سالہا سال سے اپنے نظام کو جہاں جہاں میں کام کرتا رہا ہوں ہمیشہ توجہ دلاتا رہا ہوں بلکہ جہاں تک مجھے یاد ہے جب سے میں نظام جلسہ سے وابستہ ہوا ہوں اس پہلو کی طرف جو میں اب بیان کرنے لگا ہوں ہمیشہ توجہ دلاتا رہا ہوں اور وہ ہے نماز کا قیام۔جس طرح میں نے ایک بنیادی بات آپ کے سامنے یہ رکھی کہ ہم دل جیتنے کے لئے آئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ دل کس کی خاطر؟ اپنے لئے یا کسی اور کے لئے۔ہم خدا کی خاطر دل جیتنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اس لئے اگر دل خدا کی خاطر نہ رہیں تو پھر وہ جیتنے کا فائدہ ہی کوئی نہیں بالکل بے معنی اور لغو بات رہ جاتی ہے اور خدا کی خاطر دل جیتنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بنی نوع انسان کو عبادت گزار بنانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔وہ لوگ جو نظام کے بہانے نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اُن کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔نماز کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ شدید جنگ