خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 421
خطبات طاہر جلد ۹ 421 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء حسن خلق ہے لیکن اُس کو آگے جانے دیں یہ بدنظمی ہے۔اس لئے ہر نظام میں ان دونوں چیزوں کے درمیان توازن رکھنا بڑا ضروری ہوا کرتا ہے۔جو آپ کے فرائض ہیں آپ نے بہر حال ادا کرنے ہیں۔جن فرائض میں تبدیلی کا آپ کو اختیار نہیں وہاں اگر اپنے اخلاق کی وجہ سے آپ تبدیلی کرتے ہیں تو مجرم بنتے ہیں۔اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے جتنی نرمی، جتنا لطف و عنایت دکھا سکتے ہیں ضرور دکھائیں مگر دائرہ کار کو پھلانگنے کی اجازت نہیں ہے۔بعض دفعہ لوگ اپنے غیر احمدی ایسے مہمان کو لے آتے ہیں جس کے پاس ٹکٹ نہیں ہے۔اب اُس سے کئی طرح سے باتیں ہو سکتی ہیں۔سختی سے بھی کہا جاسکتا ہے ہر گز نہیں ہم جانے دیں گے۔اُس کے سامنے بھی کہا جاسکتا ہے جس سے دونوں کی دشکنی ہو اور حسن خلق سے اُس کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک منٹ مجھ سے علیحدگی میں بات سنیں۔دوسرے پر نظر رکھتے ہوئے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں۔اُس سے کہیں کہ یہ ہمارا نظام ہے اور ساری جماعت کے مفاد میں یہ نظام ہے اس لئے آپ مہربانی فرما کر کسی بہانے سے ان کو ذرا تھوڑی دیر ٹالیں اور یہ طریق ہے جس سے اجازت مل سکتی ہے اور فلاں نظام ہے جس کے پاس آپ کو جانے کی ضرورت پڑے گی۔یہ طریقہ ہے سمجھانے کا۔اگر اچھے طریقے سے سمجھایا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کوئی انسان بے وجہ بُرا مانے لیکن اگر بد خلقی سے بات کریں گے تو اُسے یقینا ٹھوکر لگتی ہے پھر شکایتیں پہنچتی ہیں کہ ہم فلاں دوست کو لے کر آئے تھے وہ بڑا ہی جماعت کے قریب آ چکا تھا اور فلاں نے بداخلاقی سے کام لیا اور وہ دور ہو گیا اور بھاگ گیا۔ایسا ایک دفعہ ایک واقعہ پیش آیا۔جس میں واقعہ منتظمین کی غلطی تھی۔یعنی ایک ایسے شخص کو جس کے متعلق اُن کو شبہ تھا کہ اس کے اوپر نظام کی طرف سے پکڑ آئی ہوئی ہے اور وہ اُس جلسے میں اپنے ساتھ بعض غیر مسلم مہمانوں کو لے کے آیا ہوا تھا اور انہوں نے اپنی طرف سے مستعدی دکھاتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ نظام کا یہ تقاضا ہے جا کر بھری مجلس میں اُن کو اُٹھوا دیا۔اب جو اندر داخل ہو چکا تھا اُس وقت اُن کا کام یہ تھا کہ افسر بالا کو بتاتے کہ فلاں صاحب بیٹھے ہوئے ہیں کیا حکم ہے اور اپنے ہاتھ میں اس فیصلے کو نہ لیتے اور ویسے بھی جب ایک آدمی داخل ہو چکا ہے تو اس وقت اُس کو اُٹھانا اور بات ہے اور جب نظام کی طرف سے ہدایت بھی کوئی نہیں ہے کہ چونکہ ایک شخص کو سزا ملی ہوئی ہے، ایک شخص سے چندہ نہیں لیا جارہا تو اس لئے اُسے جلسے میں بھی شامل نہ ہونے دیا جائے۔ایسے فیصلے جو مہم بنے رہیں اُس میں نظام کا تقاضا یہ