خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 423

خطبات طاہر جلد ۹ 423 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء کے دوران بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اس کے کہ بالکل ناممکن بنادیا گیا اور وہ صرف ایک دفعہ ہوا با قاعدہ نماز ادا کرتے تھے اور لڑائی ہو رہی ہوتی تھی اور قرآن کریم کے بیان کے مطابق آپ پھر بھی باجماعت نماز ادا کرتے تھے آدھے لوگ آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کے الگ ہو جایا کرتے تھے اور دوسرے دوسری رکعت پڑھنے کے لئے آتے تھے تو یہ ہتھیار سنبھال لیتے تھے اور پھر پہلی پارٹی دوبارہ واپس آتی تھی ان کو ہتھیار دے کر اور اپنی دوسری رکعت بعد میں پوری کرتی تھی اور دوسری پارٹی پھر واپس آکر اُن کو ہتھیار پکڑاتی تھی اور پھر اپنی رکعت پوری کرتی تھی۔اب یہ بتائیں کہ چار پھیرے پڑتے تھے ( بخاری کتاب الخوف جلد دوم حدیث نمبر : ۳۳۷) اور دوران جنگ جب لڑائی ہو رہی ہو اُس وقت یہ کیفیت حیرت انگیز ہے سوائے اس کے کہ انسان کو کامل یقین ہو جائے ذرا بھی شک نہ رہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک دنیا کی سب سے زیادہ اہم چیز عبادت تھی اور عبادت کے مقابل پر پھر کسی چیز کو کوئی اہمیت نہیں رہتی تھی۔یہاں چھوٹے سے نظام میں رخنے کے خیال سے بھی لوگ نمازوں کو ٹال دیتے ہیں چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو پھر نماز قضاء کر جاتے ہیں یا پھر پڑھتے بھی نہیں ہوں گے بعض چونکہ انگلستان وغیرہ میں نظام اُس طرح جاری نہیں ہے جس طرح قادیان یار بوہ میں جاری تھے اور جماعت کی اہمیت کا احساس اُس شدت کے ساتھ چھوٹی نسلوں میں پیدا نہیں کیا گیا جیسا کہ قادیان یار بوہ میں یا پاکستان کی بڑی جماعتوں میں کیا جاتا ہے۔اس لئے یہاں دوہرا خطرہ ہے۔کارکن آئیں گے وہ سمجھیں گے کہ یہی نیکی ہے کہ میں کارکن ہوں اور نماز ہو نہ ہو کیا فرق پڑتا ہے۔اس سے مستقبل کے لئے آپ بہت ٹیڑھی عادتیں چھوڑ جائیں گے اور نہایت بڑے خطرات پیدا کر جائیں گے۔جب زور برتن پر ہو جائے اور یہ دیکھا ہی نہ جائے کہ برتن بھرا ہوا ہے کہ خالی ہے تو ایسے برتن پر کسی نے سر پھوڑنا ہے جس میں کچھ بھی نہ ہو۔یہ نظام برتن کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے اندر عبادت کی روح ہے، محبت کی روح ہے اور اعلیٰ اخلاق کی روحیں ہیں جو اس نظام جماعت کے برتن میں محفوظ رہتی ہیں اور سب سے اہم روح جو اس نظام میں ہے وہ عبادت کی روح ہے۔پس جلسے کا نظام ہو یا کوئی اور اگر اُس کی وجہ سے عبادت میں رخنہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اپنے اعلیٰ مقصد کو ایک ادنیٰ مقصد پر قربان کر رہے ہیں۔جبکہ عہدِ بیعت میں اس کے بالکل برعکس صورتحال ہے۔عہد بیعت میں آپ یہ اقرار کرتے ہیں کہ میں