خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 400
خطبات طاہر جلد ۹ 400 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء ہیں، بے عقل ہیں، کچھ بھی ان کو حاصل نہیں اور ان کو ہمارا سردار بنایا گیا ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔پھر جب جتھا بنتا ہے اور تکبر پیدا ہوتا ہے تو افسر بالا جو ہیں مثال کے طور پر امارت ضلع اُن تک بات پہنچتی ہے اور جب وہ تحقیق کر کے مجھے یہ مطلع کرتے ہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور بے حقیقت لوگ ہیں جو باوزن لوگ ہیں وہی ہیں جو اس وقت جماعت کے ذمہ دار ہیں اور یہ جتھہ اُن سے زیادتی کر رہا ہے تو اُس کے جواب میں مجھے چٹھی ملتی ہے کہ آپ کا امیر ضلع خود نہایت غیر متقی ہے، جھوٹا ہے اور لالچی ہے۔یہ وہاں آیا اور امیر نے یا پریذیڈنٹ نے اس کے لئے حلوے مانڈے تیار کئے ، مرغے کھلائے اور یہ اُن کے کھانے کھا کر انہی کے ہاتھ پر پک کر واپس لوٹا ہے اس لئے اس کی بات کا آپ اعتبار کس طرح کر لیتے ہیں؟ جب اُن کو لکھا جائے کہ اچھا ہم اور آگے بڑھ کر بالائی سطح پر کمشن مقرر کرتے ہیں اور ناظر صاحب امور عامہ کو مقرر کیا جاتا ہے کہ وہ جائیں یا ناظر اصلاح وارشاد جائیں۔مرکزی نمائندگان اور شامل ہو جائیں تو ایسی جماعت میں جب وہ پہنچ کر تحقیق کرتے ہیں تو لازما پہلی تحقیق کے مطابق ہوتی ہے۔اُس کا وہ جواب یہ دیتے ہیں کہ دیکھئے وہی بات ہوئی۔امیر ضلع نے ان لوگوں کی خاطریں کی ہیں، امیر ضلع ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے، مرکز میں تو تقویٰ رہا نہیں ، آپ نہیں ہیں تو پیچھے کچھ بھی نہیں رہا، سب صفایا ہو چکا ہے، آپ کو پتا ہی نہیں کہ لوگ کس طرح تقویٰ کا دامن چھوڑ کر دنیاداریوں میں پڑچکے اور پیچھے تو حال ہی کوئی نہیں رہا۔پھر میں اُن کو کہتا ہوں کہ اب ایک ہی طریق ہے کہ میں براہ راست فیصلہ کروں اور تم براہ راست میرے خلاف بغاوت کرو کیونکہ میں جانتا ہوں تم کون لوگ ہو اور بجائے اس کے کہ تمہارا یہ پردہ بھی چاک ہو جائے میں تمہیں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح بھی ہے خاموشی سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کرو اور دُعا کرو کہ خدا تمہیں ہلاکت کا آخری قدم اُٹھانے سے پہلے بلا لے اور اس زندگی میں ایسی بربادی نصیب نہ ہو جولا ز ما اُخروی زندگی کی بربادی پر منتج ہوا کرتی ہے۔پس خدا تعالیٰ جب فرماتا ہے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کی دُعا کرو تو اُس دُعا میں سارا نظام شامل ہو جاتا ہے۔انبیاء کی طرف سے یہ دُعا چلتی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انبیاء کی امتوں کا وہ حصہ رفتہ رفتہ اُن سے کاٹا جاتا ہے جن کا تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔چنانچہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ آخری زمانے میں جس قسم کے لوگ پیدا ہوں گے اُن کے متعلق قرآن یہ شکوہ