خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 401

خطبات طاہر جلد ۹ 401 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء کرے گا قیامت کے دن کہ ان لوگوں نے ہمیں مہجور کی طرح چھوڑ دیا تھا اور ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نظارہ ہمارے سامنے پیش فرماتے ہیں کہ میں حوض کوثر پر اپنے متقی غلاموں کو کوثر بانٹ رہا ہوں گا تو ایک ایسا جتھا مجھے دکھائی دے گا جن کو میں ٹھیک سمجھتا تھا اور اُن کو جہنم کے فرشتے ہانک کر دوزخ کی طرف لے جارہے ہوں گے۔میں عرض کروں گا اصحابی ، اصحابی۔اے میرے اللہ ! یہ تو میرے صحابہ تھے۔تو مجھے بتایا جائے گا کہ تجھے کیا پتا کہ تیرے بعد انہوں نے کیا رنگ اختیار کر لیا۔( بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر ۴۲۵۹) اس مضمون میں بعض بڑی گہری باتیں ہیں جن پر غور ویسے ہی اپنی ذات میں ضروری ہے۔اول یہ کہ نبی کی آنکھ تو بہت بصیرت والی آنکھ ہوا کرتی ہے۔خصوصاً حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ جو خدا کے نور سے دیکھتی تھی جیسا کبھی کسی نے خدا کے نور سے نہیں دیکھا۔آپ کا یہ کہنا کہ یہ ٹھیک لوگ تھے ، ان کو کیوں جہنم میں لے جایا جا رہا ہے؟ ایک یہ و ہم بھی دلوں میں پیدا کر سکتا ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کو نہیں پہچان سکے؟ لیکن اس وہم کا جواب اس حدیث میں موجود ہے۔خدا تعالیٰ جوابا یہ نہیں فرما تا کہ تجھے نہیں پتا تھا یہ کیسے گندے لوگ ہیں میں جانتا تھا۔فرمایا کہ تجھے نہیں پتا کہ تیرے بعد ان لوگوں نے کیا رنگ اختیار کر لیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بظاہر متقی نظر آنے والا ہے خواہ اُس وقت کی حالت اُس کی تقویٰ ہی کی ہوا گر وہ دل کی گہرائی سے اللہ کے تعلق کی بنا پر وہ نیکیاں سرانجام نہ دے رہا ہو اور اُس میں کوئی سرزنش غیر اللہ کی شامل ہو جائے تو اُس وقت کے اُس کے حالات بظاہر نیکی ہی کے حالات کہلائیں گے اور ایک نبی کی آنکھ بھی نیک کے طور پر اُن کو دیکھے گی لیکن وہ اندرونی رخنہ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور بالآخر ان کا خدا سے تعلق کاٹا جاتا ہے اور ایسے لوگ ہمیشہ بد انجام کو پہنچتے ہیں۔یہ مضمون ہمیں بتاتا ہے کہ دُعا کتنی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص محض اس وجہ سے کہ میں نے کسی نبی کا زمانہ پالیا ہے اور نبیوں میں سے بھی تمام انبیاء سے افضل کا زمانہ پالیا ہے اور اُس کی نظر میں اچھا ٹھہرا۔اسی پر بنا کرتے ہوئے تکبر اختیار کر جائے اور اپنے آپ کو نظام سے بالا سمجھنے لگے اور الہی نظام سے کسی معنے میں ٹکر لینے کا خیال کرلے تو ان تمام نیکیوں کے باوجود وہ ہلاک ہو جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو واقعات ہوئے وہ اسی قسم کے واقعات تھے۔بعض لوگ اپنی صحابیت کے برتے پر اور اس وقت کی عظمت کے برتے پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں انہوں