خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد ۹ 399 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہوتا کون ہے ہمیں دبانے والا۔ہم مجالس میں اُٹھیں گے اور کھلے منہ سے بکواس کریں گے اور تنقید بھی کریں گے اور گالیاں بھی دیں گے اور جب بھی کوئی امیر ہمیں دبانے کی کوشش کرے گا اُس کے منہ پر بات ماریں گے اور ہمارے ساتھی اٹھ کر شور مچائیں گے اور کہیں گے اس کی بات سنو تم یہ کیا اپنی باتیں لگائے ہوئے ہو۔جب اس قسم کی طاقت کا احساس جتھے میں پیدا ہو جائے تو پھر یہ بغاوت کی وہ آخری شکل ہے جو شیطان نے آننَا خَيْرٌ مِّنْهُ (الاعراف:۱۳) کہنے کے بعد اختیار کی۔پہلے اُس نے قرآن کریم میں ہمیں سمجھایا کہ خدا کے مقابل پر بغاوت کا اعلان نہیں کیا تھا اور خدا کے مقابل پر ہر گز اپنی بڑائی بیان نہیں کی تھی۔اُس نے خدا کے منتخب نمائندے کے مقابل پر اپنی بڑائی بیان کی تھی اور کہا تھا۔میں اس سے بہتر ہوں، تیرا انتخاب غلط ہے۔جب خدا تعالیٰ نے اُس کی اس بات کو ر ڈ کر دیا اور بعد میں جاری ہونے والے مضمون سے ثابت ہو گیا کہ شیطان جھوٹا تھا اور خدا کا انتخاب ہی سچا تھا تو بعد میں پھر اُس میں وہ انانیت پیدا ہوگئی جو جتھے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ اس نے خدا سے کہا کہ مجھے مہلت دے تو میں قیامت تک اب تیرے لوگوں کو ، تیرے بظاہر جو تیرے بندے ہیں اُن کو تجھ سے گمراہ کروں اور تیرے خلاف اُن کو بغاوتوں پر آمادہ کروں۔جو جواب خدا تعالیٰ دیتا ہے اُس میں یہ جتھے کی طرف اشارہ موجود ہے۔فرمایا ہم جانتے ہیں تیرے پاس جتھے ہیں، بعض طاقتور لوگ تیرے ساتھی بن چکے ہیں۔پس فرمایا اپنے گھوڑ سواروں کو اور اونٹ سواروں کو اور پیادہ چلنے والے جتھوں کو بے شک اکٹھا کرو اور میرے مقرر کردہ امام کے خلاف چڑھالا ؤ اور میں قیامت تک کے لئے تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ ایسا کرتے چلے جاؤ اور کرتے چلے جاؤ اور کرتے چلے جاؤ مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ جو میرے بندے ہیں یعنی یہاں مراد متقیوں سے ہیں کہ جو تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں اور جن کا میرے سے تعلق قائم ہو چکا ہے اُن پر تمہیں کبھی کوئی غلبہ نصیب نہیں ہو گا لیکن جو کمزور ہیں وہ ٹوٹتے چلے جائیں گے اور آہستہ آہستہ تمہاری رعونت کو اور بڑھانے کا موجب بنتے چلے جائیں گے۔پس یہ جو فتنہ گر ہیں یہ خدا کے باغی ہو جاتے ہیں اور خدا کے باغی براہ راست نہیں بنتے بلکہ قدم بقدم اور منزل بہ منزل ان کی بغاوت زیادہ اور زیادہ سر اُٹھانے لگتی ہے۔پہلے مقامی طور پر جو منتخب نمائندہ ہیں اُن کے خلاف یہ کہہ کر بغاوت کی جاتی ہے کہ یہ تو ذلیل اور گھٹیا سے لوگ ہیں ، بے معنی